پی سی بی کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں تھا!

سنگاپور میں ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ’’بگ تھری‘‘ کی تجاویز بالآخر منظور ہوگئیں، جس کا سب سے بڑا سبب آخری وقت میں جنوبی افریقہ کا ’’یوٹرن‘‘ لینا رہا جس نے ان سفارشات کے خلاف سب سے پہلے آواز بلند کی تھی اور کہا تھا کہ یہ تجاویز بین الاقوامی کرکٹ کی روح کو نقصان پہنچائیں گی۔ جنوبی افریقہ آئی سی سی کے گزشتہ اجلاس میں بھی پاکستان اور سری لنکا کے شانہ بشانہ کھڑا تھا لیکن چند روز قبل بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان رابطوں اور آئی سی سی کے نئے انتظامی ڈھانچے میں کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ کو اہم عہدہ دینے کا ’’دانہ‘‘ ڈالا، جسے پروٹیز بورڈ نے آنکھیں بند کرکے ’’چُگ‘‘لیا۔ یوں جنوبی افریقہ کی حمایت کے بعد ’’بگ تھری‘‘ کی تجاویز کی منظوری کے لیے مطلوبہ ووٹ بھی مکمل ہوگئے اور پاکستان اور سر ی لنکا کے کرکٹ بورڈز منہ تکتے ہی رہ گئےاور ’’انکار‘‘ کا ووٹ تک نہ ڈال سکے۔

پاکستان کا مخالفت کا فیصلہ بالکل درست تھا، دیگر ممالک کو اپنی غلطی کا احساس بعد میں ہوگا (تصویر: PCB)

پاکستان کا مخالفت کا فیصلہ بالکل درست تھا، دیگر ممالک کو اپنی غلطی کا احساس بعد میں ہوگا (تصویر: PCB)

آئی سی سی اجلاس میں جنوبی افریقہ کا مضبوط برج بھی ’’تین بڑوں‘‘ کے سامنے گر گیا لیکن اس صورتحال میں پاکستان اور سری لنکا کے بورڈز اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ’’بگ تھری‘‘ کی مخالفت کو ذکاء اشرف کا جذباتی پن قرار دے رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ذکا پی سی بی کے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ضد پر اڑے رہے اور پاکستان کرکٹ کے لیے گڑھا کھود ڈالا۔ اس موضوع پر اپنی گزشتہ تحریر میں بھی میں نے لکھا تھا کہ پاکستان کے لیے اب کچھ سوچنے سمجھنے کا وقت گزر چکا ہے اوربھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی مخالفت کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی کشتیاں جلاچکا ہے، اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہاجسے ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہناہے کیونکہ اپنا موقف تبدیل کرنے اور ’’بگ تھری‘‘ کی حمایت کرنے کے باوجود پاکستان کو کچھ حاصل نہ ہوتا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی صورت میں پاکستان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا۔ذکاء اشرف کو اب تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس لیے بالفرض اگر پی سی بی بھی’’بگ تھری‘‘ کے مطالبات مان لیتا تو سوشل میڈیا پر ذکاء اشرف کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ’’موسمی تجزیہ کار‘‘ پی سی بی کے سربراہ پر پھر بھی تعریف کو ڈونگرے نہ برساتے بلکہ ایسا کرنے کی صورت میں بھی ذکاء اشرف کو کڑی تنقید کا نشانہ ہی بنایا جاتا اور انہوں نے ’’بگ تھری‘‘ سے خوفزدہ ہوکر اپنا ووٹ دیا ہے یا بھارت کے ساتھ پی سی بی کی کوئی خفیہ ڈیل ہوچکی ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے ’’بگ تھری‘‘ تجاویز کا ساتھ نہ دینا پی سی بی کی بے وقوفی ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں پی سی بی کے ہاتھ کچھ نہیں آیا جبکہ جنوبی افریقہ نے آخری وقت میں پینترا بدلتے ہوئے کچھ فوائد حاصل کرلیے ہیں۔آئی سی سی کے پچھلے اجلاس میں ذکا اشرف کو آئی سی سی کی صدارت کی پیشکش کی گئی تھی جبکہ بھارت اور انگلینڈ نے پاکستان سے سیریز کھیلنے کی زبانی کلامی بات کی تھی۔ اس بات کا کیا ضمانت تھی کہ متنازع تجاویز قبول کرنے کی صورت میں کیا واقعی بھارت اور انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلتیں۔پانچ سال سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہورہی لیکن دبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں پاکستان کا قیمتی ووٹ خریدنے کے لیے بھی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا جھانسہ تک نہ دیا گیا ۔ا یشین کرکٹ کونسل میں پاکستان اپنی حمایت کھو چکا ہے جہاں بنگلہ دیش جیسا ملک بھی پاکستان کو آنکھیں دکھاتا ہے اور ’’بگ تھری‘‘ کا بھارت خاموشی سے تماشا دیکھتا رہتا ہے۔ایسی صورتحال میں اگر پاکستان ’’بگ تھری‘‘ کی متنازع تجاویز کی حمایت کرتا تو اس کی حالت ’’شامل باجا‘‘کی سی ہوتی جس کا ’’ساز‘‘بڑے سازندوں کی آواز میں دب کر رہ جاتا ۔

’’بگ تھری‘‘ تجاویز کی مخالفت کرکے یا کم از کم ان کے حق میں ووٹ نہ دے کر پی سی بی نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے کیونکہ’’بگ تھری‘‘ کی یہ متنازع تجاویز دیرپا ثابت نہ ہوں گی جن میں صرف تین بڑے ممالک کا مفاد وابستہ ہے اور چند سکوں پر بہل جانے والے چھوٹے ممالک کو اس وقت اپنی غلطی کا احساس ہوگا جب عملی نفاذ کے بعد یہ تجاویز عالمی کرکٹ کے لیے زہر قاتل ثابت ہوں گی ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کم از کم جنوبی افریقہ کی طرح ’’تھالی کا بینگن‘‘ نہیں بنا بلکہ عالمی کرکٹ میں اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ دکھایا ہے ۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ پاکستان کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں تھا جو اِن متنازع تجاویز پر دستخط نہ کرنے کے بعد کف افسوس سے ہاتھ ملے ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں ’’بگ تھری‘‘ کی مخالفت کرنے سے پاکستان عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہوجائے گا تو ان کے لیے یہ عرض ہے کہ پاکستان پہلے ہی تنہائی کی انتہائی سطح پر ہے جہاں پانچ سال سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوئی اور چار سال سے پاکستان ’’بگ تھری‘‘ میں شامل ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی ٹیسٹ سیریز نہیں کھیل سکا ۔اس سے زیادہ پاکستان مزید کتنی تنہائی کا شکار ہوگا۔

Facebook Comments