ایشیا کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کل ہوگا، عمر گل اور محمد عرفان کی واپسی متوقع

پاکستان کرکٹ کا نظام ایک مرتبہ پر تلپٹ ہوچکا ہے اور دوبارہ ذمہ داریاں سنبھالنے والی پرانی انتظامیہ کے مشکل وقت کا بھی آغاز ہوا ہی چاہتا ہے۔ پہلا امتحان ایشیا کپ میں اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنا ہے۔ اس سمت پہلا قدم سلیکشن کمیٹی نے بڑھانا ہے جو کل اپنے اجلاس کے بعد ایشیا کپ کے لیے پاکستانی دستے کا اعلان کرے گی۔ فی الوقت کمیٹی کے سامنے ہدف یہ ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے لیے ایسا دستہ منتخب کرے جو بھارت، سری لنکا اور اپنے گھر میں شیر سمجھے جانے والے بنگلہ دیش کے خلاف فتوحات سمیٹ کر ایک مرتبہ پھر ایشیائی چیمپئن بن جائے۔

عمر گل ٹیم میں مستقل جگہ پانے کے لیے پر تول رہے ہیں (تصویر: AFP)

عمر گل ٹیم میں مستقل جگہ پانے کے لیے پر تول رہے ہیں (تصویر: AFP)

نئی سلیکشن کمیٹی کے لیے کچھ اچھی خبریں ہیں، بالخصوص باؤلنگ کے شعبے میں جہاں برق رفتار عمر گل اور طویل قامت محمد عرفان قومی دستے میں واپسی کے لیے پر تول رہے ہیں ۔ محمد عرفان گزشتہ دسمبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز میں کولہے کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے۔ پے در پے کرکٹ کھلانے کی وجہ سے غیر معمولی قامت رکھنے والے اس باؤلر کے جسم پر شدید دباؤ پڑ گیا تھا اور اس کا خمیازہ پاکستان کو بہترین کارکردگی دکھانے والے گیندباز سے محرومی کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ اب جبکہ محمد عرفان آہستہ آہستہ فٹ ہوتے جا رہے ہیں اور حال ہی میں ٹیم کے ہمراہ دبئی میں انہوں نے اپنی تربیت بھی شروع کی، یہ امر یقینی ہے کہ وہ سال کے پہلے اہم ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کی نمائندگی میں کامیاب ہوجائیں گے۔

دوسری جانب عمر گل گھٹنے کی سرجری کے بعد تقریباً9 ماہ تک بین الاقوامی کرکٹ سے باہر رہے اور پھر سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز میں انہیں ٹیم میں واپس طلب کیا گیا۔ عمر گزشتہ سال کے اوائل میں دورۂ جنوبی افریقہ میں دائيں گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہوگئے تھے اور اس کے بعد آسٹریلیا میں آپریشن کے مراحل سے گزرے اور طویل عرصے کے لیے کرکٹ سے باہر ہوگئے۔ انہیں سری لنکاکے خلاف سیریز کے ذریعے واپس قومی ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن مستقل جگہ پانے میں پھر بھی انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اب ایشیا کپ میں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے تجربہ کار باؤلرز کی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء سے قبل اپنی بھرپور فٹنس ظاہر کرنے کا بھی ان کے پاس آخری موقع ہوگا۔ ان دونوں باؤلرز کی واپسی ممکنہ طور پر بلاول بھٹی اور انور علی کے اخراج کا پروانہ ثابت ہوگی۔

بیٹنگ کے معاملے میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی توقع نہیں ہے۔ گو کہ اسد شفیق کی فارم پاکستان کے لیے تشویشناک امر ہے جو گزشتہ 10 ایک روزہ اننگز میں صرف ایک مرتبہ نصف سنچری بنا پائے ہیں، وہ بھی آئرلینڈ جیسے کمزور حریف کے خلاف، جبکہ اس دوران وہ دو مرتبہ صفر کی ہزیمت کا نشانہ بنے اور اسے ملا کر 6 اننگز میں تو دہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچ سکے۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ کسی نئے بلے باز کی آمد ہو لیکن مجموعی طور پر نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو سری لنکا کے خلاف 'ہوم' سیریز کی لائن اپ میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی توقع نہیں۔ شرجیل خان اور صہیب مقصود اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت بدستو راسکواڈ کا حصہ رہیں گے او ران کے لیے آگے شاندار موقع ہوگا کہ بنگلہ دیش میں بلے بازی کے لیے سازگار وکٹوں پر اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں۔

وکٹ کیپنگ کے حوالے میں پاکستان غالباً اس مرتبہ سرفراز احمد پر بھروسہ کرے گا۔ گزشتہ سیریز میں عمر اکمل کو بطور وکٹ کیپر آزمایا گیا تھا لیکن کل وقتی وکٹ کیپر کی جگہ خالی ہونے اور بھرپور فارم میں ہونے کی وجہ سے سرفراز کی شمولیت تقریباًیقینی ہے۔ سرفراز نے 2012ء میں ہونے والے آخری ایشیا کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی تھی بلکہ فائنل میں 46 رنز کی سب سے نمایاں اننگز بھی کھیلی تھی۔

پاکستان نے 2012ء میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد بنگلہ دیش کو محض 2 رنز سے شکست دے کر 12 سال بعد ایشیائی اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ یہ ڈیو واٹمور کی بحیثیت کوچ تقرری کے بعد پاکستان کی پہلی بڑی فتح تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ معین خان کی بحیثیت کوچ تقرری کے بعد کیا پاکستان یہی تاریخ دہراپائے گا؟ بہرحال، پہلا مرحلہ تو کل طے ہوگا جب اس کے لیے قومی ٹیم کا اعلان ہوگا۔

Facebook Comments