[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] آرون فنچ، آسٹریلیا کی امیدوں کا مرکز

ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ میں صرف ایک طرح کے کھلاڑی کی بہت زیادہ مانگ ہوتی ہے، دھواں دار بلے باز! اور آسٹریلیا کے آرون فنچ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ آرون فنچ اپنے مختصر ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کیریئر میں کچھ ایسے ریکارڈز کے حامل ہیں، جن تک بڑے بڑے بلے باز نہیں پہنچ پائے۔ ایک سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ اور دوسرا ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ۔

مختصر ٹی ٹوئنٹی کیریئر میں دو بڑے ریکارڈ آرون فنچ کے ہاتھ میں ہیں: طویل ترین ٹی ٹوئنٹی اننگز اور ایک باری میں سب سے زیادہ چھکے (تصویر: Getty Images)

مختصر ٹی ٹوئنٹی کیریئر میں دو بڑے ریکارڈ آرون فنچ کے ہاتھ میں ہیں: طویل ترین ٹی ٹوئنٹی اننگز اور ایک باری میں سب سے زیادہ چھکے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ سال آرون نے انگلستان کے خلاف 156 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی جس کے دوران انہوں نے ریکارڈ 14 چھکے بھی لگائے جن میں سے ہر شاٹ ایسا تھا کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھے۔

آجکل جب 40 سے زیادہ کا ٹیسٹ اور ون ڈے اوسط رکھنے والے بلے باز بھی معدودے چند ہیں، آرون فنچ ٹی ٹوئنٹی میں 42.09 کا بھاری اوسط رکھتے ہیں اور 463 رنز کی ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

آرون فنچ ٹی ٹوئنٹی کے علاوہ وہ مختصر طرز کی ایک روزہ کرکٹ میں بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہیں اور 35.09 کے اوسط سے 772 رنز بنا چکے ہیں۔ جن میں دو نصف سنچریاں اور تین شاندار سنچریاں بھی شامل ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں کرکٹ آسٹریلیا نے انہیں 2013ء کے بہترین ٹی ٹوئنٹی کے اعزاز سے نوازا۔

اگر 2007ء اور 2012ء کے سیمی فائنل اور 2010ء کا فائنل کھیلنے والے آسٹریلیا کے رواں سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے امکانات ہیں تو ان کا ایک تہائی انحصار آرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر کی افتتاحی جوڑی پر ہوگا۔ یہ دونوں بلے باز دنیا کے کسی بھی باؤلنگ اٹیک کے پرخچے اڑا دینے کے لیے کافی ہیں اور اگر وہ بنگلہ دیش میں چل پڑے تو کسی ٹیم کو پناہ نہیں ملے گی۔

آسٹریلیا سال 2014ء میں اب تک کوئی ٹی ٹوئنٹی مقابلہ نہیں ہارا اور ٹیسٹ اور ایک روزہ طرز میں بھی اس کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔ اب بلند حوصلوں کے ساتھ ٹیم آئندہ چند روز میں سرزمین بنگال پہنچے گی تو تمام شائقین کی نظریں دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ آرون فنچ پر بھی مرکوز ہوں گی، جن کے بلے سے اگلنے والے رنز آسٹریلیا کی فتح کے ضامن بن سکتے ہیں۔

Facebook Comments