راشد کا انکار ...مزید بربادی کا اشارہ؟

راشد لطیف جیسے بااصول شخص کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ میں نوکری کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے جب گزشتہ ماہ سابق وکٹ کیپر نے چیف سلیکٹر بننے کی پیشکش قبول کی تو مجھے یہ لکھنا پڑا کہ نجم سیٹھی کی ’’چڑیا‘‘ نے پاکستان کرکٹ کے ’’عقابوں‘‘ کو شکار کرلیا ہے۔ کیونکہ راشد کے ساتھ ساتھ باسط علی بھی پی سی بی کی چھتری تلے بیٹھ چکے تھے۔ نجم سیٹھی بحیثیت چیئرمین اپنی دوسری اننگز میں ہر بولنے والی زبان کو خاموش کرانے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں اور راشد لطیف کا عہدہ سنبھالنے پر رضامندی کا اظہار یہی ثابت کررہا تھا کہ نجم سیٹھی اپنے پتے بہت مہارت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

راشد لطیف کا انکار ظاہر کررہا ہے کہ پی سی بی میں صاف اور بااصول لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، بلکہ یہ ادارہ خوشامدیوں کی آماجگاہ ہے (تصویر: AFP)

راشد لطیف کا انکار ظاہر کررہا ہے کہ پی سی بی میں صاف اور بااصول لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، بلکہ یہ ادارہ خوشامدیوں کی آماجگاہ ہے (تصویر: AFP)

سابق کپتان کو عہدہ اس وقت پیش کیا گیا جب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹس کے لیے ٹیموں کا اعلان ہوچکا تھا اور اگلے کئی ماہ تک سوائے منصوبہ بندی کے راشد کو کوئی کام نہیں کرنا تھا۔ جب انہیں سلیکشن کمیٹی کی سربراہی پیش کی گئی تو وہ ایک نجی چینل پر ایشیا کپ کے دوران ماہرانہ تبصرے کر رہے تھے اور پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں یہی کام سرکاری ٹیلی وژن چینل کے لیے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدے پر دستخط نہیں کرسکے اور اب ورلڈ ٹی 20 کے بعد انہوں نے اقرار کے بجائے سرے سے انکار ہی کردیا۔

انکار کی وجہ مختلف معاملات پر چیئرمین پی سی بی کے ساتھ اختلافات ہیں، جن میں سے ایک وجہ سلیکشن کمیٹی کے ناموں پر رضامند نہ ہونا ہے۔ راشد لطیف چاہتے تھے کہ سابق ٹیسٹ بلے باز محمد یوسف اور وجاہت اللہ واسطی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں۔ ان دونوں کو کرکٹ چھوڑے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا جبکہ وجاہت تو اب بھی ڈومیسٹک ٹیم کی کوچنگ کررہے ہيں لیکن پی سی بی نئے چہروں کے بجائے گزشتہ سلیکشن کمیٹی کے اراکین اظہر خان اور فرخ زمان کو سلیکٹر برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ راشد نے اس معاملے میں الجھنے کے بجائے صرف اتنا کہہ کر جان چھڑالی کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور نجم سیٹھی کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔

راشد لطیف کبھی بھی ’’یس مین‘‘ نہیں رہے اور چیف سلیکٹر بننے پر بھی انہوں نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ ان کے کاموں میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ راشد وہی کھلاڑی ہیں جنہوں نے میچ فکسنک کے خلاف آواز اٹھا کر اپنے کیریئر ہی خود ہی خاتمہ کیا اور جو شخص اصولوں کی خاطر اپنے کیریئر کی بھی پروا نہ کرے، اس کے لیے چیف سلیکٹر کا عہدہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

یوں راشد لطیف اپنے اجلے کپڑوں کے ساتھ ہی گھر واپس چلے گئے ہیں مگر ان کا انکار یہی ظاہر کررہا ہے کہ پی سی بی میں صاف اور بااصول لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ ادارہ خوشامدیوں کی آماجگاہ ہے جس میں سربراہوں کے جوتے سیدھے کرنے والے تو برسوں اپنے عہدوں پر موجود رہتے ہیں مگر سر اٹھاکر چلنے والوں کا یہاں رہنا آسان نہیں ہے۔

راشد لطیف کے آنے کی توقعات کے ساتھ ایک امید بندھ گئی تھی کہ اب قومی ٹیم کی سلیکشن کے معاملات درست ہونا شروع ہوجائیں گے، ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی اب رائیگاں نہیں جائے گی اور چیف سلیکٹر ’’اوپر‘‘ سے آنے والے کسی فون کی وجہ سے اپنا فیصلہ نہیں بدلے گا، مگر ایسا نہیں ہوسکا اور راشد لطیف کے انکار کے باعث پاکستان کرکٹ مزید بربادی کی طرف چلی گئی ہے جہاں سب مفادات کے سمندر میں اپنے اپنے چپو چلارہے ہیں مگر پاکستان کرکٹ کی کشتی ڈوبتی چلی جارہی ہے۔

ورلڈ ٹی20میں عبرتناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ کوچ، کپتان اور اب چیف سلیکٹر سے محروم ہوچکی ہے مگر وہ سب لوگ اپنے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں جو پاکستان کرکٹ کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اور اب پاکستان کرکٹ کو مزید پستی کی طرف لے جانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔

Facebook Comments