موسم سرما میں پاک-بھارت سیریز کے امکانات

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مالی خسارے سے نکلنے کے لیے اب تمام توقعات 'بگ تھری' بالخصوص بھارت سے باندھ لی ہیں۔ متنازع منصوبے کی سب سے آخر میں حمایت کا اعلان کرنے والا پاکستان اگلے فیوچر ٹورز پروگرام میں بھارت سمیت تمام 9 ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے دوروں اور ان کی میزبانی کا خواہاں ہے۔

پاک-بھارت آخری ٹیسٹ دسمبر 2007ء میں کھیلا گیا تھا (تصویر: AFP)

پاک-بھارت آخری ٹیسٹ دسمبر 2007ء میں کھیلا گیا تھا (تصویر: AFP)

گزشتہ پانچ سالوں سے اپنے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم پاکستان اس وقت سنگین مالی بحران کا شکار ہے، جس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ گزشتہ سال کے وسط تک پی سی بی کا خسارہ 500 ملین روپے تھا ۔ اہم ممالک کے ساتھ سیریز کے عدم انعقاد کی وجہ سے اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی طویل المیعاد نشریاتی معاہدہ نہیں رکھتا جو کسی بھی بورڈ کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ بھارت سمیت تمام بڑے ممالک کے ساتھ سیریز طے پا جائیں کیونکہ اسی کے نتیجے میں پی سی بی کو نشریاتی اداروں سے بڑی آمدنی متوقع ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد سے تقریباً منقطع ہیں اور دونوں نے اس کے بعد سے اب تک کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی۔ گو کہ 2012ء کے اواخر میں محدود اوورز کی ایک مختصر سی سیریز ضرور کھیلی گئی تھی لیکن دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹیسٹ کھیلے ہوئے بھی اس وقت ساڑھے چھ سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔ بین الاقوامی کرکٹ تو درکنار بھارت انڈین پریمیئر لیگ میں بھی کسی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کرسکا حتیٰ کہ اجازت کے باوجود بھی کوئی فرنچائز نیلامی کے لیے موجود پاکستانی کھلاڑیوں کو خریدنے کو تیار نہیں۔

بہرحال، اب پاکستان کے لیے امید کی آخری کرن وہ شرائط نامہ ہے جو اس وقت بھارت کے پاس موجود ہے، جو بی سی سی آئی کے آئندہ ورکنگ کمیٹی اجلاس میں پیش ہوگا اور اگر آئندہ چند روز میں اس کی منظور دے دی گئی تو بعید نہیں کہ 2015ء کے موسم سرما ہی میں پاکستان اور بھارت متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے نظر آئیں۔

ویسے بھی اس وقت بھارتی کھلاڑی آئی پی ایل7 کے ابتدائی مرحلے کے لیے متحدہ عرب امارات ہی میں موجود ہیں، تو کیا پاک-بھارت سیریز کے لیے اسٹیج تیار ہورہا ہے؟ دونوں ممالک کے شائقین شدت سے منتظر ہیں۔

Facebook Comments