انگلستان اور سری لنکا آمنا سامنا کرنے کے لیے تیار

سال 2014ء کے اہم ترین ٹورنامنٹ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں یکسر مختلف نتائج کا سامنا کرنے والے انگلستان اور سری لنکا اب شکست کے صدمے اور جیت کے نشے سے باہر آ چکے ہیں اور اب ان دونوں کی نظریں 20 مئی سے شروع ہونے والی سیریز پر مرکوز ہیں جس میں ایک ٹی ٹوئنٹی، 5 ون ڈے اور 2 ٹیسٹ مقابلے کھیلے جائیں گے۔ اس سیریز کے لیے انگلستان نے آج ٹی ٹوئنٹی اور ابتدائی تین ون ڈے مقابلوں جبکہ سری لنکا نے پوری ایک روزہ سیریز کے لیے اپنے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔

سری لنکا کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جتوانے والے پال فاربریس اب انگلستان کے کوچنگ عملے میں شامل ہیں، کیا وہ انگلستان کو فتوحات کی راہ پر گامزن کر سکیں گے؟ (تصویر: Getty Images)

سری لنکا کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جتوانے والے پال فاربریس اب انگلستان کے کوچنگ عملے میں شامل ہیں، کیا وہ انگلستان کو فتوحات کی راہ پر گامزن کر سکیں گے؟ (تصویر: Getty Images)

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے اعلان کے مطابق ٹی ٹوئنٹی مقابلے کے لیے اعلان کردہ انگلش دستے اسٹورٹ براڈ سمیت 6 تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ انگلستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بدترین شکستوں کے بعد باہر ہوا اور پورے ٹورنامنٹ میں اس نے صرف ایک مقابلہ جیتا، حتی کہ نیدرلینڈز کے خلاف مقابلے میں بھی شکست سے دوچار ہوا۔ 20مئی کو اوول میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی مقابلے کے لیے اعلان کردہ دستے میں نہ ہی اسٹورٹ براڈ ہیں اور نہ ہی مائیکل لمب، نہ لیوک رائٹ اور نہ جیڈ ڈرنباخ، ان کے علاوہ اسٹیفن پیری اور کریگ کیزویٹر بھی اس ٹیم میں موجود نہیں۔ کپتان براڈ کی غیر موجودگی میں قیادت کے فرائض ایک مرتبہ پھر ایون مورگن انجام دیں گے۔ ٹیم میں قابل ذکر شمولیت سیاہ فام مائیکل کاربیری اور ٹم بریسنن کی ہے۔ حال ہی میں کیریئر کا بہترین آغاز کرنے والے معین علی صرف ٹی ٹوئنٹی ہی میں جگہ برقرار رکھ پائے ہیں، انہیں ایک روزہ مرحلے کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

اوول ہی کے میدان پر 22 مئی سے شروع ہونے والی پانچ ون ڈے مقابلوں کی سیریز کے لیے انگلستان کی قیادت بدستور ایلسٹر کک کریں گے جبکہ مائیکل کاربیری بھی ایک روزہ دستے کا حصہ ہوں گے جنہیں دورۂ ویسٹ انڈیز اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے شامل نہیں کیا گیا تھا۔

واحد ٹی ٹوئنٹی کے لیے اعلان کردہ انگلینڈ کا دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

ایون مورگن (کپتان)، معین علی، این بیل، روی بوپارہ، ٹم بریسنن، جوس بٹلر، مائیکل کاربیری، ہیری گرنی، ایلکس ہیلز، کرس جارڈن، جو روٹ، جیمز ٹریڈویل اور کرس ووکس۔

جبکہ ابتدائی تین ایک روزہ مقابلوں کے لیے میزبان نے ان کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے:

ایلسٹر کک (کپتان)، جیمز اینڈرسن، گیری بیلنس، این بیل، روی بوپارہ، ٹم بریسنن، جوس بٹلر، مائیکل کاربیری، ہیری گرنی، کرس جارڈن، ایون مورگن، جو روٹ، جیمز ٹریڈویل اور کرس ووکس۔

دوسری جانب سری لنکا نے پوری ایک روزہ سیریز کے لیے اپنے انتہائی مضبوط دستے کا اعلان کیا ہے جس میں چاروں تجربہ کار کھلاڑی کمار سنگاکارا، مہیلا جے وردھنے، تلکارتنے دلشان اور لاستھ مالنگا شامل ہیں۔

ایک روزہ مقابلوں میں قیادت کے فرائض اینجلو میتھیوز انجام دیں گے جبکہ لاہیرو تھریمانے پہلی بار ان کے نائب ہوں گے۔

سری لنکا اس وقت ایک روزہ کرکٹ میں بہترین کارکردگی پیش کررہا ہے اور رواں سال یعنی 2014ء میں اب تک کھیلے گئے تمام مقابلے جیتے ہے جس میں بھارت اور پاکستان جیسے سخت حریفوں کو زیر کرکے ایشیائی چیمپئن بننے کا کارنامہ بھی شامل ہے۔ ایک روزہ سے ہٹ کر ٹی ٹوئنٹی میں بھی اس کی کارکردگی مثالی رہی ہے اور اس نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں صرف ایک مقابلے میں شکست کھائی اور پہلی بار ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بنا۔

ایک روزہ مقابلوں کے لیے اعلان کردہ سری لنکن دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

اینجلو میتھیوز (کپتان)، لاہیرو تھریمانے (نائب کپتان)، تلکارتنے دلشان، کوشال پیریرا، کمار سنگاکارا، مہیلا جے وردھنے، دنیش چندیمال، آشان پریانجن، سچیتھرا سینانائیکے، اجنتھا مینڈس، چتورنگا ڈی سلوا، لاستھ مالنگا، نووان کولاسیکرا، تھیسارا پیریرا اور سورنگا لکمل۔

سری لنکا کے لیے دورۂ انگلستان کا باضابطہ آغاز 20 مئی کو اوول میں واحد ٹی ٹوئنٹی سے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں 22 مئی سے اسی میدان پر ایک روزہ سیریز کا آغاز کریں گی جو 3 جون کو برمنگھم میں آخری ون ڈے تک جاری رہے گی۔ دو ٹیسٹ مقابلے 12 اور 20 جون سے بالترتیب لارڈز اور ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلے جائیں گے۔

ایک جانب جہاں یہ سیریز انگلستان کے نئے کوچ پیٹر مورس کا پہلا امتحان ہوگی وہیں سری لنکا کی کوچنگ کا دامن چھوڑ کر انگلش کوچنگ عملے میں شمولیت اختیار کرنے والے پال فاربریس کے لیے بھی اہم ہوگی، جن کی زیر تربیت سری لنکا نے حال ہی میں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتے اور محض چند ہفتوں کے وقفے کے بعد اب وہ اسی ٹیم کے خلاف کھیلیں گے۔

Facebook Comments