پی سی بی میں غیر یقینی کیفیت، نقصان قومی کرکٹ کا

پاکستان کے کرکٹ معاملات کی کوئی کل سیدھی نہیں ہورہی، نتیجہ غیر یقینی کی کیفیت اب اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ عدالت کے تازہ فیصلے نے ذکا اشرف کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنادیا، اور نجم سیٹھی ایک مرتبہ پھر عدالت کے ہاتھوں منظرنامے سے غائب کردیے گئے۔ یہ رواں سال دوسرا موقع ہے کہ ذکا اشرف عدالت کے حکم پر بحال ہوئے ہوں، لیکن پہلی بار حکومت وقت نے انہیں ایک ماہ بھی نشست پر بیٹھنے نہیں دیا تھا اور وزیراعظم پاکستان نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں معطل کردیا تھا اور نجم سیٹھی کو دوبارہ اختیارات سونپ دیے تھے۔ لیکن اب ایک مرتبہ پھر عدالت آڑے آ گئی ہے اور اس کے فیصلے نے بے یقینی کی صورتحال مزید اضافہ کردیا ہے۔

Pakistan-cricket-Board-logo

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں چند بہت اہم عہدوں پر تقرریاں کی ہیں۔ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے وقار یونس اور بیٹنگ کوچ کے عہدے پر گرانٹ فلاور کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ مشتاق احمد اسپن باؤلنگ مشیر قرار پائے ہیں۔ ان سے قبل معین خان کو چیف سلیکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ لیکن اب جبکہ ذکا اشرف اور نجم سیٹھی کے درمیان عدالتی جنگ شروع ہونے والی ہے، ان تمام عہدیداروں سمیت بحیثیت مجموعی بھی پاکستان کرکٹ ایک سنگین بحرانی کیفیت سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ درحقیقت اس وقت تمام افراد اپنی ملازمتیں بچانے کی فکر میں ہیں۔ ذکا اشرف نے عامر سہیل کو چیئرمین سلیکشن کمیٹی بنایا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ عملی طور پر نشست سنبھالتے، نجم سیٹھی ایک مرتبہ پھر سربراہ بن گئے اور انہوں نے سابق چیئرمین کی جانب سے کی گئی بیشتر تقرریوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ یوں عامر سہیل سمیت کئی افراد اپنے عہدوں سے محروم ہوگئے۔

اب عین اس وقت جبکہ معاملات سنبھلتے دکھائی دے رہے تھے ایک مرتبہ پھر اتھل پتھل مچ چکی ہے۔ کرکٹ بھی باقی تمام کھیلوں کی طرح ذہنی اطمینان اور یکسوئی مانگتا ہے۔ جب تک کہ ذہن مطمئن نہ ہو، جسم بھی کھلاڑیوں کا ساتھ نہیں دیتا۔ اگر بورڈ میں بحران ہو، اہم عہدوں پر موجود شخصیات اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کی شکار ہوں تو آخر ٹیم کیسے فتوحات کی راہ پر گامزن ہوگی۔ جب ہیڈ کوچ اور دیگر عملے کو ایسا محسوس ہو کہ کہیں انہیں بھی باہر نہ کردیا جائے، جب کپتان کو یہ خطرہ ہو کہ کسی بھی وقت قیادت کا تاج نہ اس کے سر سے اتار لیا جائے تو ٹیم ہرگز 100 فیصد کارکردگی نہیں دکھا پائے گی۔

آپ کے خیال میں کون چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدے کے لیے زیادہ موزوں ہے؟


Loading ... Loading ...

ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹس میں پاکستان کی کارکردگی پر غالباً اسی بحران کی وجہ سے بہت منفی اثر پڑا۔ اول الذکر ٹورنامنٹ میں پاکستان فائنل میں شکست سے دوچار ہوا اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں تو تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچا۔

اب معاملہ سپریم کورٹ میں جانے کے بعد مزید طول پکڑے گا اور یہ جتنا آگے تک جائے گا، پاکستان کرکٹ کا اتنا ہی نقصان ہوگا، جس کا وہ اس وقت متحمل نہیں ہوسکتا۔سال کے دو اہم ترین اعزازات تو وہ گنوا چکا ہے لیکن اب جبکہ عالمی کپ 2015ء کے آغاز میں 9 مہینوں کا وقت رہ گیا ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ایک، ایک دن قیمتی ہے۔ اس لیے کرکٹ کے خیر خواہوں کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرکے اس قضیے کو جلد از جلد نمٹائیں تاکہ ٹیم کو یکسوئی حاصل ہو اور وہ ورلڈ کپ کے لیے بہترین تیاری کرسکے۔

بہتر یہ ہے کہ ذکا اشرف اور نجم سیٹھی دونوں پاکستان کرکٹ کے مفاد میں چیئرمین کے عہدے سے دستبردار ہوجائیں اور فوری انتخابات کے ذریعے معاملات نئی انتظامیہ کے سپرد کیے جائیں۔ اس صورت میں دونوں افراد کی قومی کرکٹ سے خیرخواہی بھی ظاہر ہوگی اور پاکستان کرکٹ کو ممکنہ ناقابل تلافی نقصان سے بھی بچایا جا سکے گا۔

Facebook Comments