[آج کا دن] ”کیپٹن فنٹاسٹک“ مصباح الحق کی 40 ویں سالگرہ

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پاکستان کرکٹ کی حالت زار کے بارے میں اگر کبھی کوئی تاریخ مرتب کی گئی تو وہ دو ادوار میں تقسیم ہوگی، ایک قبل از مصباح اور دوسرے بعد از مصباح۔ آپ ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان کو پسند کریں یا نہ کریں، ان کو 'کیپٹن فنٹاسٹک' کہیں یا 'ٹک ٹک'، یہ بات حقیقت ہے کہ آپ مصباح کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ 28 مئی کو عمر کے 40 سال مکمل کرنے کے بعد مصباح اب مزید کتنا کھیل پائیں گے، اس بارے میں تو یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا لیکن مصباح نے جس نازک دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اور اسے چند یادگار فتوحات تک پہنچایا، مستقبل میں ضرور اس کی قدر کی جائے گی۔

مصباح الحق سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستان کو ہر فارمیٹ میں عالمی نمبر ایک بنا دیں گے، پاکستانی کرکٹ شائقین کی حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی ہے۔ اصل میں جذباتی فین یہ بھول جاتے ہیں کہ مصباح نے قیادت کس وقت سنبھالی تھی؟ اس وقت جب کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پاکستان کرکٹ آتش فشاں کے دہانے پر کھڑی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان میں یہ کھیل ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ اس صورتحال میں مصباح کو گھر سے بلا کر قیادت سونپی گئی اور انہوں نے بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹا۔ کھلاڑیوں میں فتح کا یقین پیدا کیا، شائقین کا ٹیم پر اعتماد بحال کیا، تاریخ کی چند بہترین فتوحات حاصل کیں۔ درحقیقت اس مقام پر عمران خان، وسیم اکرم اور جاوید میانداد جیسے کپتان ہوتے بھی تو شاید اس سے بہتر نتائج نہ دے پاتے جو مصباح نے دیے۔ پھر مصباح نے نہ صرف ٹیم کے درون خانہ معاملات کو سنبھالا بلکہ میڈیا کی بے جا تنقید کو بھی برداشت کیا، ہر تلخ بات کا جواب اپنی کارکردگی کے ذریعے دیا۔ یہ مصباح جیسا ٹھنڈے مزاج کا کپتان تھا، جو یہ سب کچھ جھیل گیا، کوئی اور ہوتا تو اس بھاری پتھر کو دیکھ کر 'دہلیز کو چوم کر چھوڑ دیتا۔'

مصباح الحق نے 2001ء میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا لیکن انضمام الحق، یونس خان اور محمد یوسف جیسے بیٹسمینوں کی موجودگی میں قومی کرکٹ ٹیم میں مستقل جگہ نہ بنا پائے۔ البتہ ان کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ اس وقت ہوا جب انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مستقل جگہ دی گئی۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء کسے یاد نہ ہوگا؟ جب پاکستان فائنل میں بھارت کے خلاف شکست کے دہانے پر پہنچ گیا تھا یہ مصباح ہی تھے جن کے بلندو بالا چھکوں نے پاکستان کو یقین کی آخری حدوں تک فتح کے قریب پہنچا دیا۔ اگر ایک گیند، صرف ایک گیند پر مصباح غلط شاٹ نہ کھیلتے تو پاکستان پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن ہوتا لیکن اسکوپ شاٹ کھیلنے کی غلطی نے پاکستان کو یقینی فتح سے محروم کردیا۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہ مصباح ہی تھے جو 8 اوورز میں درکار 80 رنز کے پیچھے پاکستان کو اس مقام تک لائے تھے۔

مصباح پر جتنی تنقید بڑھی، ان کی کارکردگی میں اتنا ہی نکھار پیدا ہوتا گیا (تصویر: AFP)

مصباح پر جتنی تنقید بڑھی، ان کی کارکردگی میں اتنا ہی نکھار پیدا ہوتا گیا (تصویر: AFP)

پھر عالمی کپ 2011ء کے سیمی فائنل میں بھارت ہی کے ہاتھوں ہار کا نزلہ بھی مصباح پر ہی گرایا گیا حالانکہ 6 کیچ چھوڑ کر پاکستان کے فیلڈرز نے پہلے ہی شکست کی بنیاد رکھ دی تھی۔ بہرحال، ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد مصباح نے انگلینڈ کے خلاف وہ سیریز جتوائی جو اسپاٹ فکسنگ معاملے کے سامنے آنے کے بعد پہلا پاک-انگلستان ٹکراؤ تھا۔ عالمی نمبر ایک انگلینڈ کے خلاف تینوں ٹیسٹ جیت کر مصباح الیون نے وہ تاریخ رقم کی، جو عمران خان سمیت پاکستان کے بہترین کپتان بھی کوشش کے باوجود کبھی نہ کرپائے تھے۔ اس فتح کی اہمیت اس لیے بھی زیاد ہ ہے کہ انگلینڈ اس وقت عالمی نمبر ایک تھا اور آسٹریلیا اور بھارت کو شکست دے کر بلند حوصلوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات پہنچا تھا لیکن یہاں پاکستان کی اسپن طاقت کے سامنے ڈھیر ہوگیا۔ نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف فتوحات اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو سیریز برابر کھیلنے کے کارناموں کے علاوہ مصباح الحق کی ایک روزہ کرکٹ میں بھی کارکردگی نمایاں رہی۔ ان کی زیر قیادت پاکستان نے دورۂ بھارت میں ون ڈے سیریز جیتی، جنوبی افریقہ کو اس کے ملک ہی میں پہلی ایک روزہ سیریز ہرائی اور پھر 2012ء میں ایشیا کپ جیتا۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان: ٹیسٹ سیریز کے دلچسپ اعداد و شمار

یہ تمام کارنامے پاکستان نے بیرون ملک سرانجام دیے کیونکہ مصباح کے کپتان بننے سے پہلے ہی پاکستان بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کی میزبانی سے محروم ہوچکا تھا۔ دوسرے ممالک میں نامانوس کنڈیشنز میں کھیلتے ہوئے مصباح نے نہ صرف پاکستان کو پانچ سال کے طویل عرصے بعد پہلی ٹیسٹ سیریز جتوائی بلکہ انگلستان کے خلاف کلین سویپ کرکے نئی تاریخ بھی رقم کی۔

مبینہ سست بیٹنگ اور دفاعی انداز کی وجہ سے مصباح الحق سخت تنقید کی زد میں آتے رہتے ہیں لیکن انہوں نے بارہا اپنی کارکردگی کے ذریعے ناقدین کی زبانیں بند کروائیں ہیں بلکہ جس قدر ان پر تنقید ہوئی، ان کی انفرادی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہوتی چلی گئی۔ سال 2013ء میں سب سے زیادہ ون ڈے رنز، نصف سنچریاں اور چھکے لگانے والے بیٹسمین بنے اور پھر رواں سال کے اوائل میں شارجہ میں سری لنکا کے خلاف تاریخی فتح حاصل کرکے ان سب ناقدین کو بھرپور جواب دیا جو انہیں سخت سست کہتے تھے۔ اس مقابلے میں پاکستان نے آخری روز 230 رنز کا ہدف ریکارڈ 58 اوورز میں حاصل کیا۔

مصباح نے اپنے عزم و حوصلے کے بل بوتے پر پاکستان کرکٹ کی ایسی بنیاد رکھ دی ہے جس پر پاکستان آنے والے کئی سالوں تک دنیائے کرکٹ کی سرفہرست ٹیم بن سکتا ہے۔

Facebook Comments