بھارتی باؤلرز میں 20 وکٹیں لینے کی صلاحیت نہیں: دلیپ وینگسارکر

بھارت کے کھلاڑیوں کے ذہنوں سے ابھی آخری دورۂ انگلستان کا خوف نہیں اترا ہوگا کہ جہاں اسے انگلستان کے ہاتھوں چار-صفر کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔ اب جبکہ ٹیم کو ایک مرتبہ پھر انہی میدانوں میں کھیلنا ہے، ماضی کے عظیم کھلاڑی بھی اعتماد نہیں رکھتے۔ سابق کپتان دلیپ وینگسارکر بالخصوص باؤلنگ سے غیر مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گیندبازوں میں حریف ٹیم کی 20 وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں۔

وینگسارکر کو بھارت کی لائن اپ میں کوئی ایسا باؤلر نظر نہیں آتا جو میچ میں 10 وکٹیں لے سکے (تصویر: Getty Images)

وینگسارکر کو بھارت کی لائن اپ میں کوئی ایسا باؤلر نظر نہیں آتا جو میچ میں 10 وکٹیں لے سکے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ دورۂ انگلستان میں یہ بھارت کی باؤلنگ صلاحیت ہی کی ناکامی تھی کہ اسے چاروں ٹیسٹ مقابلوں میں بہت بڑے فرق سے شکستیں ہوئیں۔ پہلا ٹیسٹ 196 رنز،دوسرا 319 رنز، تیسرا اننگز اور 242 رنز اور چوتھا اننگز اور 8 رنز سے ہارنے کے بعد بھارت ٹیسٹ درجہ بندی میں نمبر ایک پوزیشن سے محروم ہوگیا تھا اور دلیپ کی نظر میں اب بھی بھارت کی باؤلنگ لائن میں جان نہیں کہ وہ انگلستان کے لیے کافی ثابت ہو۔

"ٹیسٹ کرکٹ میں ایسے باؤلرز کی ضرورت ہوتی ہے جو حریف ٹیم کو دو مرتبہ آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں آتا۔ ہم چار باؤلرز کے ساتھ کھیلیں گے اور ان میں سے دو تو لازمی ایسے ہونے چاہئیں جو میچ میں 10 وکٹیں لے سکتے ہوں اور مجھے ان میں ایسی کوئی قابلیت نظر نہیں آتی۔"

انگلستان میں موسمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے دلیپ نے کہا کہ پہلے دونوں ٹیسٹ مقابلے کھلاڑیوں کے لیے بہت مشکل ہوں گے کیونکہ انہیں کنڈیشنز کا بہتر اندازہ نہیں ہوگا، اس لیے انہیں ان دونوں میچز کی بہت زیادہ تیاری کرنا پڑے گی جس کے لیے دو پریکٹس مقابلے ناکافی ہیں۔ کم ا زکم چار سے پانچ پریکٹس میچز تو ہونے چاہیے تھے۔ پھر بھی نوجوان باؤلرز کو جلد ہی ان حالات سے مانوسیت پیدا کرنا پڑے گی۔

بھارت گزشتہ دورۂ انگلستان میں شکست کے بعد آسٹریلیا، جنوبی افریقہ حتیٰ کہ نیوزی لینڈ سے بھی سیریز ہار چکا ہے اور اس عرصے میں بیرون ملک واحد کامیابی اسے ویسٹ انڈیز کے خلاف ملی ہے۔

انگلستان-بھارت ٹیسٹ سیریز کا آغاز 9 جولائی سے ناٹنگھم میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں مزید 4 ٹیسٹ اور 5 ون ڈے مقابلے کھیلیں گی۔ سیریز کا اختتام 7 ستمبر کو واحد ٹی ٹوئنٹی کے ساتھ ہوگا۔

Facebook Comments