جب بلّا نہیں چلتا تو اپنی تیز ترین سنچری کی جھلکیاں دیکھتا ہوں: شاہد آفریدی

شاہد آفریدی نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی آمد کا اعلان ایسی دھماکہ خیز اننگز سے کیا جو 17 سال تک ایک روزہ کرکٹ تاریخ کی تیز ترین سنچری کی حیثیت سے ریکارڈ بک میں موجود رہی، یہاں تک کہ سال 2014ء کے آغاز کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کے نوجوان آل راؤنڈر کوری اینڈرسن نے اسے توڑ دیا۔

شاہد آفریدی نے 4 اکتوبر 1996ء کو سری لنکا کے خلاف 37 گیندوں پر 100 رنز بنا کر تیز ترین ون ڈے سنچری کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا، جو 17 سال قائم رہا (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی نے 4 اکتوبر 1996ء کو سری لنکا کے خلاف 37 گیندوں پر 100 رنز بنا کر تیز ترین ون ڈے سنچری کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا، جو 17 سال قائم رہا (تصویر: AFP)

آج جب شاہد آفریدی کی 37 گیندوں پر بنائی گئی یادگار سنچری کو 18 سالہ گزر چکے ہیں، تو "لالا" قیادت کا تاج ایک مرتبہ پھر سر پر سجائے آسٹریلیا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

پاک-آسٹریلیا سیریز کا پہلا مقابلہ کل (اتوار کو) دبئی میں کھیلا جائے گا جس سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے "اس" یادگار اننگز کی یادیں بھی تازہ کیں اور اس امید کا بھی اظہار کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

ایک سال قبل جب 4 اکتوبر کا دن آیا تھا تو شاہد آفریدی اور ان کے پرستاروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ان کے تیز ترین ون ڈے سنچری کے ریکارڈ کی آخری "سالگرہ" ہے، لیکن یکم جنوری 2014ء کو نیوزی لینڈ کے کوری اینڈرسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 36 گیندوں پر سنچری بنا کر اسے توڑ دیا۔

شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ آج بھی جب وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے تو اپنے حوصلوں کو بڑھانے کے لیے یوٹیوب پر اس اننگز کی جھلکیاں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 سالہ کرکٹ کیریئر سے میری بہت خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، اور میں پاکستان کے لیے کھیلنے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔

Facebook Comments