شارجہ ٹیسٹ: نیوزی لینڈ تجربہ کار ڈینیل ویٹوری کو آزمانے کا خواہشمند

ایک ایسی سیریز جہاں پاکستان کے اسپن گیندباز 27 وکٹیں حاصل کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں، وہیں نیوزی لینڈ کے اسپنرز صرف 9 وکٹیں سمیٹ پائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیوزی لینڈ شارجہ میں ہونے والے آخری ٹیسٹ کے لیے تجربہ کار ڈینیل ویٹوری کو آزما سکتا ہے۔

ڈینیل ویٹوری 2012ء سے اب تک کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں کھیل پائے اور اب دو سال سے زیادہ عرصے کے بعد سخت صورتحال میں نیوزی لینڈ انہیں آزمانا چاہ رہا ہے (تصویر: Getty Images)

ڈینیل ویٹوری 2012ء سے اب تک کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں کھیل پائے اور اب دو سال سے زیادہ عرصے کے بعد سخت صورتحال میں نیوزی لینڈ انہیں آزمانا چاہ رہا ہے (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کوچ مائیک ہیسن کہتے ہیں کہ "وکٹ بالکل سیدھی ہے، اور اس پر حریف کی 20 وکٹیں حاصل کرنے کے لیے تین اسپن گیندباز آزمائے جا سکتے ہیں۔" یعنی نیوزی لینڈ پاکستان کی ان-فارم بیٹنگ لائن کو پھانسنے کے لیے مارک کریگ اور ایش سودھی کے ساتھ ویٹوری کا تجربہ بھی استعمال کرنے کا خواہشمند ہے۔

35 سالہ ڈینیل ویٹوری نے گزشتہ روز ہونے والے تربیتی سیشن میں بھی شرکت کی تھی اور اگر انہیں بدھ سے شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے لیے کھلاڑیوں کی حتمی فہرست میں شامل کیا گیا تو وہ نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ ویٹوری اب تک 111 ٹیسٹ مقابلے کھیل چکے ہیں، اور سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ کے ساتھ نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔

ویٹوری بلاشبہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ 360 وکٹیں اور ساڑھے 4 ہزار سے زیادہ رنز ان کی صلاحیتوں کا اظہار ہیں۔ وہ تاریخ کے دو عظیم ترین آل راؤنڈرز کپل دیو اور این بوتھم کے بعد واحد کھلاڑی ہیں جنہیں بیک وقت 300 سے زیادہ وکٹیں اور 4 ہزار سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ان کی جسمانی کیفیت ایسی نہیں رہی کہ وہ ہر طرز کی کرکٹ میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرسکیں۔ اسی سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ جولائی 2012ء کے بعد سے اب تک انہوں نے کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔

مائیک ہیسن کہتے ہیں کہ اس مرتبہ موقع دیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ڈینیل ویٹوری کی ٹیسٹ طرز میں واپسی ہوگئی ہے، لیکن ہم انہیں ایک مرتبہ آزمانا چاہتے ہیں۔

تین ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز میں اس وقت پاکستان کو ایک-صفر کی برتری حاصل ہے۔ پاکستان نے ابوظہبی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ 248 رنز کے واضح فرق سے جیتا تھا جبکہ دبئی ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا۔ اب جبکہ پاکستان کو ناقابل شکست برتری حاصل ہے، نیوزی لینڈ کے بعد اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی پوری طاقت آخری ٹیسٹ میں جھونک دے۔ ڈینیل ویٹوری کو آزمانے کا جوا بھی شاید اسی لیے کھیلا جا رہا ہے۔

Facebook Comments