مصباح بھی زخمی ہو کر سیریز سے باہر، قیادت شاہد آفریدی کے سپرد

عالمی کپ کے آغاز میں اب پورے دو مہینے رہ گئے ہیں اور پاکستان کے چند اہم ترین کھلاڑی زخمی ہو کر نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز سے باہر ہوگئے ہیں، جن میں تازہ اضافہ کپتان مصباح الحق کا ہے۔

مصباح الحق کے زخمی ہونے سے پاکستان کو عالمی کپ سے قبل نوجوانوں اور دوسری قیادت کو استعمال کرنے کا سنہرا موقع مل گیا ہے (تصویر: AFP)

مصباح الحق کے زخمی ہونے سے پاکستان کو عالمی کپ سے قبل نوجوانوں اور دوسری قیادت کو استعمال کرنے کا سنہرا موقع مل گیا ہے (تصویر: AFP)

شارجہ میں کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ کے دوران مصباح الحق نیوزی لینڈ کی اننگز کے تیسرے ہی اوور میں ران کا پٹھے میں تکلیف کا شکار ہوگئے تھے اور پھر بقیہ پورا مقابلہ میدان سے باہر بیٹھ کر گزارا۔ اب انجری کے مکمل جائزے کے بعد وہ سیریز کے بقیہ تین مقابلوں سے باہر ہوگئے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی عمر گل اور بلاول بھٹی کی خدمات سے محروم ہے اور اب مصباح کی عدم دستیابی ٹیم کے لیے ایک اور دھچکا ہوگی۔ مصباح کی عدم موجودگی میں قیادت کے فرائض شاہد آفریدی انجام دیں گے، جنہوں نے دوسرے ایک روزہ میں نیوزی لینڈ کی اننگز میں یہ فرائض سنبھالیں تھے۔ فی الوقت پاکستان عمر گل اور بلاول بھٹی کی جگہ انور علی اور یاسر شاہ کو طلب کرچکا ہے البتہ مصباح کے متبادل کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان نے سیریز کے ابتدائی دونوں مقابلوں کے لیے جس دستے کا اعلان کیا تھا، وہ پہلا مقابلہ جیتنے کے بعد دوسرے میں شکست سے دوچار ہوا اور تین کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے اسکواڈ میں تبدیلیاں ناگزیر ہوگئیں۔ اب شاہد آفریدی نسبتاً کم تجربہ کار دستے کے ذریعے سیریز جیتنے کی کوشش کریں گے۔

ان کھلاڑیوں کا زخمی ہونا ایک لحاظ سے پاکستان کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ عالمی کپ سے قبل نئے کھلاڑیوں کو آزمانے اور حتمی دستے کے انتخاب کا اس سے بہتر موقع نہیں مل سکتا۔ اس کے علاوہ مصباح کی قائدانہ انداز سے ناخوش حلقے بھی شاہد آفریدی کو میدان عمل میں دیکھ سکیں گے، اور بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے۔

آخری تین ایک روزہ مقابلوں کے لیے پاکستان کا دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگا:

شاہد آفریدی (کپتان)، احمد شہزاد، اسد شفیق، انور علی، حارث سہیل، ذوالفقار بابر، سرفراز احمد، سہیل تنویر، عمر اکمل، محمد حفیظ، محمد عرفان، ناصر جمشید، وہاب ریاض، یاسر شاہ اور یونس خان۔

Facebook Comments