اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست؟

سری لنکا کے خلاف سری لنکا میں شکست کھانے کی تو کوئی وجہ ہو سکتی تھی، آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف ہارنے کی بھی کوئی توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے لیکن عالمی کپ کے آغاز سے صرف دو ماہ پہلے درجہ بندی میں ساتویں نمبر کے

موجودہ حکمت عملی کے ساتھ پاکستان کا عالمی کپ جیتنا تو درکنار ایک روزہ درجہ بندی میں اپنی ساتویں پوزیشن برقرار رکھنا بھی ناممکن ہے (تصویر: AFP)

موجودہ حکمت عملی کے ساتھ پاکستان کا عالمی کپ جیتنا تو درکنار ایک روزہ درجہ بندی میں اپنی ساتویں پوزیشن برقرار رکھنا بھی ناممکن ہے (تصویر: AFP)

نیوزی لینڈ سے شکست کھانے پر آخر کیا بہانہ بنایا جائے گا؟ پوری شکست کا ملبہ جس واحد فرد پر ہمیشہ ڈالا جاتا رہا ہے، اب تو وہ بھی دستے کا حصہ نہیں تھے اور قیادت بھی اس فرد کے ہاتھوں میں تھی جس کے بارے میں کئی خوش فہم حلقوں کا آج بھی ماننا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی کپتانی انہی کو جچتی ہے۔ پھر شکست کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ یہ عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر کی ٹیم نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہوئی، وہ بھی نیوزی لینڈ کے ایسے دستے کے ہاتھوں جو اپنے تینوں اہم ترین کھلاڑیوں سے محروم تھا۔ نہ ہی شعلہ مزاج کپتان برینڈن میک کولم یہ سیریز کھیلے، نہ ہی دونوں برق رفتار گیندباز ٹم ساؤتھی اور ٹرینٹ بولٹ ٹیم کے ساتھ تھے۔ اس کے باوجود سیریز میں دو بار برتری حاصل کرنے کے باوجود پاکستان فیصلہ کن وار نہ کرسکا اور بلیک کیپس کا کم تجربے کا حامل نوجوان دستہ اس موقع کا فائدہ اٹھا گیا۔

درحقیقت نیوزی لینڈ کی دوسرے درجے کی ٹیم کے ہاتھوں اس شکست کا نہ بہانہ ہے اور نہ ہی وقت۔ یہ شکست آنے والے نتائج کا پیش خیمہ ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی کپ کے آغاز میں دو مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔

پاکستان نے جس سرزمین پر آج سے 23 سال پہلے عالمی کپ جیتا تھا اب ایک مرتبہ پھر عالمی کرکٹ کا میلہ سجے گا اور شاید تاریخ میں پاکستان کے عالمی چیمپئن بننے کے اتنے کم امکانات نہیں ہوں گے جتنے کہ اس بار ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان آج بھی 1992ء والی حکمت عملی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سری لنکا اور آسٹریلیا کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز دیکھ لیں، ٹیم میں کوئی ایسا گیندباز نہیں دکھائی دیتا جو حریف بلے بازوں کے لیے خوف کی علامت ہو، لیکن اس کے باوجود باؤلنگ پر بے جا انحصار کیا جارہا ہے۔ ٹاس جیت کر ہمیشہ پہلے بلے بازی سنبھالنا اور پھر اس بے ضرر سی باؤلنگ لائن اپ بھروسہ کرنا کہ وہ ڈبتی نیّا پار لگائے گی، سمجھ سے بالاتر ہے۔

پے در پے زخمی ہونے کے بعد شاید عمر گل کے دن گنے جا چکے، وہاب ریاض اور سہیل تنویر میں وہ دم خم نہیں دکھائی دیتا۔ صرف محمد عرفان اور جنید خان ہیں، جن کی مکمل صحت یابی اور سوجھ بوجھ کر کیا گیا استعمال پاکستان کو باؤلنگ میں چند نتائج دے سکے، لیکن ان دونوں کے علاوہ باقی 30 اوورز کون نکالے گا؟ اس کا کچھ نہیں معلوم۔ سعید اجمل اور محمد حفیظ پر پابندی کے بعد پاکستان کی اسپن گیندبازی کی تمام قوت سعید اجمل اور محمد حفیظ پر پابندی کے ساتھ ختم ہوچکی ہے۔ اب اسپن باؤلنگ میں، شاہد آفریدی سمیت، کوئی ایسا باؤلر نہیں جو رنز روکنے کے بجائے وکٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے مجموعی طور پر اس شعبے میں تو مکمل طور پر مایوسی کے ڈیرے ہیں۔

بلے بازی پر نظر ڈالیں تو ایک ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے بلے بازوں کا قبضہ دکھائی دیتا ہے۔ مصباح الحق، یونس خان، اسد شفیق اور شمولیت کی صورت میں اظہر علی، یہ سب ایک ہی ذہن کے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں اور ان کو دیکھ کر احمد شہزاد نے بھی رنگ پکڑ لیا ہے اور اب 2011ء اور 2014ء کے احمد شہزاد میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی پوری تگ و دو صرف "اوورز گزارنے" پر دکھائی دیتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے اس عہد میں جہاں اختتامی بلے باز مختلف فارمیٹس میں بازیاں پلٹ رہے ہیں، پاکستان کا یہ حد درجہ دفاعی کھیل دہائیوں پرانا ہے اور اس منصوبہ بندی کے ذریعے جیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالائی بلے باز وکٹیں سنبھالیں، درمیان میں اننگز پہلے گیئر میں چلتی رہے اور آخری اوورز میں دو بلے بازوں کے آسرے پر اننگز کی رفتار کو بڑھانے کی توقعات اب ماضی کا قصہ بن چکی ہیں۔ پاکستان کرکٹ کے ذمہ داران کو سمجھنا ہوگا کہ رنز بنانے کی حقیقی ذمہ داری سرفہرست اور درمیانے بلے بازوں کی ہے، نچلے نمبروں پر آنے والوں کی نہیں۔ اس لیے پہلے آنے والے بیٹسمینوں کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا ہوگا اور ایک روزہ کرکٹ کے مزاج کے عین مطابق کھیلنا ہوگا۔ ورنہ نتیجہ وہی نکلے گا جو گزشتہ بڑے ایک روزہ ٹورنامنٹ چیمپئنز ٹرافی میں نکلا تھا کہ پاکستان تمام میچز میں شکست کھا کر باہر ہوگیا۔

عالمی کپ میں صرف ایک چیز پاکستان کی فتوحات کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے، وہ ہے مندرجہ بالا تجاویز کے مطابق حکمت عملی کی تبدیلی۔ ورنہ یہ خدشہ برقرار رہے گا کہ پاکستان ایک روزہ درجہ بندی میں ساتویں سے آٹھویں درجے پر بھی چلا جائے۔

ویسے نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ افسوسناک شکست کا مثبت پہلو بھی ہے، کم از کم اس مرتبہ عالمی کپ سے پہلے تو مصباح-آفریدی قیادت کا ہنگامہ سر نہیں اٹھائے گا۔

Facebook Comments