عالمی کپ فائنل: برابری کی صورت میں فیصلہ سپر اوور میں ہوگا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر عالمی کپ 2015ء کا فائنل برابر ہوا تو فاتح کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے کیا جائے گا۔

عالمی کپ کی تاریخ کا سب سے یادگار "ٹائی" مقابلہ، 1999ء کے عالمی کپ کا سیمی فائنل تھا (تصویر: Getty Images)

عالمی کپ کی تاریخ کا سب سے یادگار "ٹائی" مقابلہ، 1999ء کے عالمی کپ کا سیمی فائنل تھا (تصویر: Getty Images)

دبئی میں ہونے والے آئی سی سی بورڈ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہےکہ جس طرح چار سال قبل 2011ء میں فائنل کے ٹائی ہونے کی صورت میں سپر اوور کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا تھا، ایسی کسی صورتحال سے دوچار ہونے کی صورت میں 29 مارچ کو بھی سپر اوور ہی سے مدد لی جائے گی۔

ابتداء میں 2015ء کے فائنل کے لیے سپر اوور کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن حالیہ اجلاس میں منظور دے دی گئی ہے کہ برابری کی صورت میں یہی فیصلہ کن مرحلہ ہوگا۔

اس وقت سپر اوور کا استعمال ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں اسکور برابر ہونے کی صورت میں کیا جاتا ہے اور متعدد بار بین الاقوامی سطح پر سپر اوورز استعمال ہو چکے ہیں البتہ ایک روزہ کرکٹ میں اس کا استعمال نہیں ہوتا۔

عالمی کپ کی تاریخ میں کل چار مقابلے ٹائی ہوئے ہیں جن میں 1999ء میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کا یادگار سیمی فائنل بھی شامل ہے۔ اس مقابلے کے فاتح کا فیصلہ ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کے مقابلے کے گزشتہ نتیجے کی بنیاد پر نکالا گیا تھا اور آسٹریلیا کو فائنل کھیلنے کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک چار عالمی کپ ٹورنامنٹس میں کم از کم ایک مقابلہ ضرور ٹائی ہوا ہے لیکن تاریخ میں کبھی کوئی فائنل برابری کی سطح پر ختم نہیں ہوا۔

ویسے تصور کیجیے کہ 29 مارچ 2015ء کو ملبورن کے تاریخی میدان پر ہونے والا مقابلہ ٹائی ہوجائے اور فیصلہ سپر اوور کی بنیاد پر ہو۔ ہارنے والی ٹیم کے اراکین زندگی بھر اس شکست کو نہیں بھولیں گے۔

Article Tags

Facebook Comments