عالمی کپ، کیا ہاشم آملہ جنوبی افریقہ کی بدشگونی کا خاتمہ کرسکتے ہیں؟

عالمی کپ سے پہلے جنوبی افریقہ نے اپنی آخری سیریز کا اختتام چار-ایک کی شاندار فتح کے ساتھ کیا ہے۔ اس سیریز کے دوران "پروٹیز" نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اگلے ماہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں میں جنوبی افریقہ، ایک مرتبہ پھر، عالمی کپ کے بہترین امیدواروں میں سے ایک ہوگا۔ لیکن کیا کبھی ایسا عالمی کپ ٹورنامنٹ بھی گزرا ہے، جس میں جنوبی افریقہ "فیورٹ" نہ ہو؟ سوائے 1992ء کے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پروٹیز اعزاز پانے کے لیے مضبوط ترین امیدوار نہ ہوں۔ ہر بار ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچتے ہی ان کی کہانی تمام ہوئی، یہاں تک کہ 2003ء میں اپنے ہی میدانوں پر پہلے ہی مرحلے میں باہر ہوئے۔

ہاشم آملہ کی حالیہ بیٹنگ فارم دنیا کے تمام باؤلرز کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے (تصویر: AP)

ہاشم آملہ کی حالیہ بیٹنگ فارم دنیا کے تمام باؤلرز کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے (تصویر: AP)

لیکن۔۔۔۔۔ اس بار کہانی کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ ایک جدید اور بہترین مشین کی طرح ٹیم کا ہر پرزہ اس وقت بہترین انداز میں کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف ابراہم ڈی ولیئرز کی طوفانی اور ریکارڈ ساز سنچری ہے تو دوسری جانب ہاشم محمد آملہ کی مستقل مزاجی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ ایک روزہ سیریز میں 'مرد درویش' نے جو کارکردگی دکھائی ہے، اس نے دنیا بھر کے گیندبازوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

سیریز میں کھیلے گئے 4 مقابلوں میں ہاشم آملہ نے 206 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 413 رنز بنائے، جس میں دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں شامل رہیں۔ ان کے لگائے گئے 44 چوکے سیریز میں ان کے قریبی ترین بلے باز سے بھی دوگنے ہیں۔ پھر آخری ایک روزہ میں ہاشم نے جس طرح اپنے مزاج سے ہٹ کر بہت تیز بلے بازی کی، وہ عالمی کپ کے لیے ان کی تیاری کو ظاہر کرتی ہے۔ صرف ایک ویسٹ انڈین گیندباز شیلڈن کوٹریل کو انہوں نے 22 گیندوں پر 49 رنز بنائے، یعنی "فل شاہد آفریدی موڈ"!

105 گیندوں پر 133 رنز کی یہ اننگز اس سیریز میں 66، 153 اور 61 رنز کی تین باریوں میں شاندار اضافہ تھی۔ اسی دوران ہاشم آملہ نے نہ صرف اپنے 5 ہزار رنز مکمل کیے، بلکہ سب سے کم اننگز میں یہ سنگ میل عبور کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

آخری ایک روزہ میں بنائی گئی ہاشم آملہ نے کیریئر کی 19 ویں سنچری بنائی، وہ بھی محض 104 ویں اننگز میں۔ ایک روزہ کرکٹ کے عظیم بلے باز سچن تنڈولکر کو اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے 194 اننگز کھیلنا پڑی تھیں۔ یوں ہاشم اپنی ہر چھٹی اننگز میں سنچری بنا رہے ہیں اور اگر آسٹریلیا اور نیوزی ینڈ کی وکٹوں پر بھی اسی رنگ میں نظر آئے تو شاید جنوبی افریقہ کو شکست دینا ناممکنات میں سے ہو۔

Facebook Comments