بھارت کو شکست، لیکن کیسے؟

پاکستان و ہندوستان کا مقابلہ کسی "سرد جنگ" سے کم نہیں ہوتا لیکن اگر یہ عالمی کپ میں باہم مقابل ہوں تو اس وقت ماحول بہت زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ گو کہ پاکستان ایک بار بھی عالمی کپ میں بھارت کو شکست نہیں دے پایا لیکن ہوسکتا ہے کہ بھارت کی فتوحات کا سلسلہ اس بار تمام ہوجائے اور پٹاخے پھوڑنے کا موقع پاکستان کرکٹ کے شائقین کو ملے۔ آئیے ان پانچ اہم عوامل کا جائزہ لیتے ہیں جن کی مدد سے پاکستان بھارت کو شکست دے سکتا ہے:

یہ شاہد آفریدی کا آخری عالمی کپ ہے اور وہ تیز ترین سنچری کا ریکارڈ واپس لینے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ کیا وہ بھارت کی کمزور باؤلنگ کے خلاف یہ ریکارڈ بنانے کی کوشش کریں گے؟ (تصویر: AFP)

یہ شاہد آفریدی کا آخری عالمی کپ ہے اور وہ تیز ترین سنچری کا ریکارڈ واپس لینے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ کیا وہ بھارت کی کمزور باؤلنگ کے خلاف یہ ریکارڈ بنانے کی کوشش کریں گے؟ (تصویر: AFP)

بھارت کی حالیہ پے در پے شکستیں:

آسٹریلیا کی سرزمین پر بھارت اب تک ایک جیت کے لیے بھی ترستا ہوا نظر آیا ہے۔ عالمی کپ سے پہلے افغانستان کے خلاف کھیلے گئے وارم-اپ مقابلے کو چھوڑ دیا جائے تو بھارت کو ایک فتح بھی ہاتھ نہیں لگی۔ دورۂ آسٹریلیا پر بھارت کو نہ تو ٹیسٹ میں کامیابی ملی اور نہ ہی اس کے بعد ہونے والی سہ فریقی ایک روزہ سیریز میں جہاں وہ انگلستان تک سے دو مقابلے ہار گیا۔ ویسے پاکستان کا حال بھی زیادہ اچھا نہیں ہے۔ پاکستان کے نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں شکست ہوئی ہے لیکن جو چیز پاکستان کو جتا سکتی ہے وہ ہے بھارت سے بہتر مورال، کیونکہ اُنہوں نے اپنے آخری وارم اپ میں انگلستان کے اسی دستے کو شکست دی ہے، جس کے خلاف بھارت دو بار ناکام ہوا تھا۔

ٹیم انڈیا کی اندرونی چپقلش:

جب بھی بھارت پاکستان کے خلاف میدان میں اترتا ہے تو ان وقت وہ نفسیاتی طور پر مضبوط ٹیم لگتا ہے لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں مہندر سنگھ دھونی کی اچانک ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ، ڈریسنگ روم میں شیکھر دھاون کی بلے بازی کے آرڈر کے متعلق الجھنیں، ادھر بھارت میں انڈین پریمیئر لیگ فکسنگ اسکینڈل، یا پھر ویراٹ کوہلی کا دھونی کے خلاف ٹویٹ کو فیورٹ کرنا اور پھر اسے ڈیلیٹ کرنا، ظاہر کرتا ہے کہ ٹیم انڈیا میں اتحاد کی کمی ہے۔

اس بار سچن نہیں:

بھارت نے عالمی کپ ٹورنامنٹس میں پاکستان کے خلاف پانچ مقابلے کھیلے ہیں، ہر بار فتح پائی ہے اور ہر مقابلے میں سچن تنڈولکر شریک تھے۔ وہ عالمی کپ میں پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ رنز بنانے والے بھارتی بلے باز ہیں لیکن عالمی کپ 2015ء میں پہلی بار بھارت سچن کے بغیر میدان میں اترے گا۔ لہذا بھارت کے لیے سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اس بڑے مقابلے میں سچن کی کمی کون پورے کرے گا۔

شاہد آفریدی کا آخری عالمی کپ:

پاکستان کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی شاہد آفریدی نے عالمی کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا ہے۔ 19 سال تک پاکستان کے لیے کھیلنے والے آفریدی بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ مانے جا رہے ہیں۔ آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ اے بی ڈی ولیئرز کے تیز ترین سینکڑے (سنچری) کا ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں۔ آفریدی کے ارادے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کل بھارت کے ساتھ ہونے والے مقابلے میں بھارتی گیندبازوں کو آڑے ہاتھوں لینے کے موڈ میں ہیں۔

بھارت کی کمزور گیندبازی:

بھارت کے لیے اس وقت سب سے بڑی پریشانی اُس کی کمزور گیندبازی ہے۔ تجربہ کار ایشانت شرما کے زخمی ہو کر عالمی کپ سے باہر ہو جانے کے باعث ٹیم کا گیندبازی حملہ مزید کمزور نظر آ رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی گیندبازی نسبتاً مضبوط لگ رہی ہے۔ پاکستان کے پاس وہاب ریاض، شاہد آفریدی اور محمد عرفان جیسے کئی اچھے گیندباز ہیں جو بھارت کے بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

Facebook Comments