ویسٹ انڈیز-پاکستان، عالمی کپ کی امیدیں زندہ رکھنے کا مقابلہ

اپنے ابتدائی مقابلوں میں شکست جھیلنے کے بعد پاکستان اور ویسٹ انڈیز عالمی کپ میں اپنی امیدیں زندہ رکھنے کے لیے اب سے کچھ دیر بعد مدِ مقابل ہوں گے۔ عالمی کپ 2015ء میں دونوں کا آغاز اچھا نہیں رہا۔ پاکستان کو روایتی حریف کے ہاتھوں ہارا جبکہ ویسٹ انڈیز آئرلینڈ کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست سے دوچار ہوا۔

اگر بلے بازوں کو اب بھی ہوش نہ آیا تو پاکستان کے لیے سنگین مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں (تصویر: Getty Images)

اگر بلے بازوں کو اب بھی ہوش نہ آیا تو پاکستان کے لیے سنگین مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں (تصویر: Getty Images)

دونوں ٹیموں کا ایک، ایک مقابلے کے بعد کیا حال ہے، اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز گروپ 'بی' میں سب سے نچلے نمبروں پر ہیں۔ یہاں تک کہ چوتھے نمبر پر موجود متحدہ عرب امارات سے بھی اُن کا نیٹ رن ریٹ کافی کم ہے۔

بھارت کے خلاف 301 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سب سے پہلے تو پاکستان کا یونس خان کو اوپنر بھیجنے کا تجربہ ناکام ہوا، جبکہ سرفراز احمد کی جگہ بطور وکٹ کیپر کھلائے گئے عمر اکمل تو ایک قیمتی کیچ چھوڑنے کے علاوہ بلے بازی میں بھی صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ یہاں تک کہ پاکستان کی ٹیم 47 اوورز میں 224 رنز پر آؤٹ ہو گئی ۔ مصباح الحق کو چھوڑ کر پاکستان کا کوئی دوسرا بلے باز کھیل پر اپنا نقش نہیں چھوڑ سکا ۔ اب اگر پاکستان کو ویسٹ انڈیز پر فتح حاصل کرنی ہے تو بلے بازوں کو یقینی طور پر اچھا کھیل پیش کرنا ہو گا۔

پاکستان کے گیندباز بھی ابتدائی مقابلے میں اپنی کارکردگی سے متاثر نہیں کرپائے۔ ٹیم کو اپنے نمبر ایک باؤلر سعید اجمل کی کمی واضح طور پر محسوس ہوئی۔ صرف سہیل خان نے کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مقررہ 10 اوورز میں 55 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں۔ البتہ پاکستانی گیندبازوں نے بھارت کے خلاف "ڈیتھ اوورز" میں جس طرح کی عمدہ گیندبازی کی، مصباح اُسے آئندہ مقابلوں میں بھی دہرانا چاہیں گے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف مقابلے میں آخری پانچ اوورز میں صرف 27 رنز دیے تھے۔

بھارت کے ہاتھو ںشکست مایوس کن ضرور ہے لیکن پاکستان اپنی کارکردگی کے مثبت پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر ویسٹ انڈیز کے خلاف اچھا کھیل سکتا ہے۔

دوسری جانب، آئرلینڈ کے ہاتھوں 4 وکٹوں کی شکست کے بعد ویسٹ انڈیز کو بھی کڑی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اُن کے لیے سکھ کی بات یہ رہی کہ اُن کے ایک بلے باز نے میچ میں سنچری‌بنائی اور مجموعی طور پر ٹیم نے 304 رنز کا بڑا اسکور اکٹھا کیا۔ نچلے نمبروں پر لینڈل سیمنز کی 102 رنز کی باری ہی تھی جو ویسٹ انڈیز کے اس مرحلے تک لے کر آئی لیکن اس کے بعد گیندبازی نے بہت مایوس کیا اور اتنا بڑا ہدف آئرلینڈ جیسے کمزور حریف نے 25 گیند قبل ہی حاصل کرلیا۔

اس صورتحال میں ویسٹ انڈیز کی امیدوں کے مرکز و محور ایک مرتبہ پھر کرس گیل ہوں گے۔ اگر ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ پانی ہے تو اس گیل کے بلّے کا چلنا بہت ضروری ہے۔ گیندبازی میں ویسٹ انڈیز کو اپنے اہم ترین باؤلر سنیل نرائن کی خدمات حاصل نہیں، جس کا ان کی باؤلنگ پر بہت مضر اثر پڑا ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ٹیمیں موجودہ حالات میں ہم پلّہ ہیں اور جو جیتے گا، اسے دوسرے پر برتری حاصل ہوجائے گی۔

Facebook Comments