پاکستان کے لیے حوصلے بلند کرنے کا سنہری موقع

پست حوصلوں کے ساتھ عالمی کپ میں قدم رکھنے اور پہلے ہی مقابلے میں روایتی حریف بھارت اور پھر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بدترین شکستوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بے حال کردیا تھا۔ جب 'کوئی امید بر نہیں' آ رہی تھی، تب پاکستان نے زمبابوے کے خلاف، بمشکل ہی سہی، لیکن اہم مقابلہ ضرور جیتا اور اس سے بھی اہم یہ ہے کہ جنوبی افریقہ نے آئرلینڈ کو بدترین شکست دے کر معاملات کو مزید آسان کردیا ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آئرلینڈ کے ہاتھوں ویسٹ انڈیز کو ملنے والی شکست سے گروپ میں جو عدم توازن پیدا ہوا تھا، اسے کافی حد تک برابر کردیا ہے۔ اب پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے خلاف اپنا آج کا مقابلہ جیتے، بڑے فرق سے جیتے اور پھر اگلے دو مقابلوں سے اچھے نتائج حاصل کرکے کوارٹر فائنل میں جگہ پائے۔

یہ اتنا سیدھا تو نہیں ہوگا، جتنا کہ لکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کو جس مسئلے کا سامنا وہ بہت گمبھیر ہے۔ مصباح الحق کو نکال دیں تو بلے بازی کا کوئی حال ہی نہیں۔ مصباح نے دو مرتبہ 70 سے زیادہ رنز کی اننگز کھیلی ہیں اور ان کے علاوہ صرف صہیب مقصود اور عمر اکمل کو ایک، ایک بار نصف سنچری بنانے کا 'شرف' حاصل ہوا ہے۔ پھر پاکستان نے زیادہ سے زیادہ جس مجموعے کو چھوا ہے وہ 235 رنز ہے۔ صرف افغانستان اور اسکاٹ لینڈ ہی دو ایسی ٹیمیں ہیں، جن کا سب سے بڑا مجموعہ اس سے کم ہے ورنہ آئرلینڈ، متحدہ عرب امارات، زمبابوے اور بنگلہ دیش تک اس سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ اس لیے متحدہ عرب امارات کے خلاف مقابلے کا اہم ترین پہلو یہی ہے کہ کیا پاکستان کی بلے بازی اس خول سے باہر آ سکے گی؟ ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز برائن لارا نے بھی اس جانب توجہ دلائی ہے کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو جاگنا ہوگا، اور اس وقت وہ کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ایڈیلیڈ یا برسبین کے بڑے میدانوں کے مقابلے میں اسے متحدہ عرب امارات کے خلاف نیپئر میں کھیلنا ہے جو نیوزی لینڈ میں بلے بازی کے لیے سازگار ترین میدان سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے بلے بازوں کے پاس بھرپور موقع ہے کہ وہ خود کو سنبھالیں اور اسی مقابلے سے اپنی اہلیت ثابت کریں۔

پاکستان کے لیے دوسرا پریشان کن پہلو اس کی فیلڈنگ ہے۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے علاوہ زمبابوے کے خلاف مقابلے میں بھی کیچ چھوڑے گئے ہیں، بالخصوص وکٹوں کے پیچھے عمر اکمل کی کارکردگی بہت مایوس کن ہے جنہوں نے ہر مقابلے میں ہی آسان مواقع ضائع کیے ہیں۔ اس کے باوجود متحدہ عرب امارات کے خلاف امکان کم ہی ہے کہ سرفراز احمد کو طلب کیا جائے کیونکہ پاکستان گیندبازی کو بھی کمزور نہیں کرنا چاہے گا اور کل وقتی پانچ گیندباز کھلانا اس کی ترجیح ہے۔

البتہ ایک خوش آئندہ پہلو یہ ہے کہ زمبابوے کے خلاف پاکستان کے تیز گیندباز خوب چلے۔ خاص طور پر محمد عرفان نے جیسی نپی تلی گیندبازی دکھائی ہے، اگر وہ آئندہ مقابلوں میں بھی دہرائیں تو حریف کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ وہاب ریاض، سہیل خان اور راحت علی نے بھی بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے البتہ شاہد آفریدی بجھے بجھے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اپنے آخری عالمی کپ کو یادگار بنانا ہوگا اور گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی کچھ کر دکھانا ہوگا۔ پھر وہ ایک تاریخی سنگ میل کے بھی بہت قریب ہیں۔ انہیں 8 ہزار ایک روزہ رنز مکمل کرنے کے لیے صرف دو مزید رنز درکار ہیں۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف اہم مقابلے سے پہلے سنبھلنے کا یہ آخری موقع ہے، اگر یہاں اعتماد بحال ہوا اور کارکردگی پیش کی گئی تو اہم معرکے میں بھی سر اٹھا کر جائیں گے، بصورت دیگر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔

چند گھنٹوں بعد میک لین پارک میں دکھائی گئی کارکردگی ہی ثابت کرے گی کہ پاکستان میں کتنا دم باقی ہے اور زمبابوے کے خلاف جیت نے اس کے حوصلے کتنے بڑھائے ہیں۔

Facebook Comments