بنگلہ دیش کی امیدیں برقرار، اسکاٹ لینڈ پھر مایوس

16 سال قبل جب اسکاٹ لینڈ نے پہلی بار عالمی کپ میں جگہ پائی تھی تو بنگلہ دیش کے خلاف اسے اپنی پہلی جیت حاصل کرنے کا سنہری موقع ملا تھا۔ بنگلہ دیش کو صرف 185 رنز تک محدود کرنے کے بعد اسکاٹ لینڈ 163 رنز پر ڈھیر ہوگیا اور اس کے بعد سے آج تک عالمی کپ میں اپنا پہلا مقابلہ جیتنے سے محروم ہے۔ یہاں تک کہ آج کائل کوئٹزر کی ریکارڈ شکن 156 رنز کی اننگز اور 318 رنز کا مجموعہ بھی اسے فتح نہ دے سکا۔

اسکاٹ لینڈ، جسے چند روز قبل افغانستان کے ہاتھوں مایوس کن شکست ہوئی تھی، کے پرستاروں کو آج خوب امید بندھی کہ شاید پہلی جیت نصیب ہو لیکن بنگلہ دیش نے تمیم اقبال کی اننگز اور دیگر تجربہ کار کھلاڑیوں کی بہترین اننگز کی بدولت 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرلی۔

بنگلہ دیش کی دعوت پر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ نے گو کہ توقعات سے کہیں بہتر بلے بازی دکھائی۔ گو کہ 38 رنز پر دو کھلاڑی آؤٹ ہوگئے تھے لیکن کائل کوئیٹزر کو آج روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے پہلے میٹ ماچن کے ساتھ 78 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ شبیر رحمٰن نے اپنی ہی گیند پر ماچن کا کیچ تھام کو بنگلہ دیش کو تیسری کامیابی دلائی۔ کوئٹزر نے شبیر ہی کو چوکا لگا کر اپنے اسکور کو 79 رنز تک پہنچا دیا اور اس کے ساتھ ہی وہ عالمی کپ میں اسکاٹ لینڈ کی جانب سے سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے بلے باز بن گئے۔ ان سے قبل یہ اعزاز گیون ہملٹن کے پاس تھا جنہوں نے 1999ء میں پاکستان کے خلاف 76 رنز بنائے تھے۔

کوئٹزر نے روبیل حسین کی ایک گیند کو لانگ آن سے باہر چھکے کے لیے بھیج کر اپنی سنچری مکمل کی۔ یوں وہ عالمی کپ میں سنچری بنانے والے اسکاٹ لینڈ کے اولین بلے باز بھی بن گئے۔ اسکاٹ لینڈ کی اننگز کو حقیقی رفتار کوئٹزر اور کپتان پریسٹن مومسن کی اننگز نے تھی، جنہوں نے چوتھی وکٹ پر صرف 18.5 اوورز میں 141 رنز جوڑے۔ یہ شراکت تب ٹوٹی جب مومسن نے ناصر حسین کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ دے دیا۔ کوئٹزر نے آج اپنا بہترین انفرادی اسکور بھی بنایا۔ ایک سال قبل انہوں نے شارجہ میں افغانستان کے خلاف 138 رنز بنائے تھے اور آج صرف 134 گیندوں پر 156 رنز بنانے کے بعد سومیا سرکار کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں 4 چھکے اور 17 چوکے شامل تھے۔

بعد ازاں، رچی بیرنگٹن کے 16 گیندوں پر 26 اور میتھیوز کراس کے 20 رنز ہی اسکور میں کچھ قابل ذکر اضافہ کرسکے یہاں تک کہ 50 اوورز مکمل ہونے پر اسکاٹ لینڈ 8 وکٹوں پر 318 رنز بنا گیا۔

سومیا سرکار نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تسکین احمد نے تین اور ناصر حسین نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

بنگلہ دیش نے اس مقابلے سے پہلے عالمی کپ میں کبھی 250 رنز سے زیادہ کا ہدف حاصل نہیں کیا تھا اور جب ابتداء ہی میں سومیا سرکار کی وکٹ گری تو اس وقت بھی آثار یہی نظر آ رہے تھے۔ مگر بنگلہ دیش کی توقعات کے برخلاف بہت اچھی بلے بازی ، یا یہ کہیں کہ اسکاٹ لینڈ نے توقعات سے کہیں گھٹیا گیندبازی نے مقابلے کا فیصلہ بنگلہ دیش کے حق میں کیا۔

تمیم اقبال اور محمود اللہ کی دوسری وکٹ پر 139 رنز کی شراکت داری، عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی طرف سے سب سے بڑی شراکت داری کے ریکارڈ نے اسکاٹ لینڈ کو پہلی ضرب پہنچائی۔ 144 کے مجموعے پر محمود اللہ 62 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد تمیم اقبال نے مشفق الرحیم کے ساتھ مل کر تیزی سے رنز کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ جب 200رنز کی منزل پار ہوئی تو تمیم کا بلاوا آ گیا۔ وہ 95 رنز بنا چکے تھے یعنی سنچری سے صرف 5 رنز کے فاصلے پر تھے کہ جوش ڈیوی نے انہیں ایل بی ڈبلیو کردیا اور ریویو لینے کے باوجود فیصلہ ان کے خلاف ہی گیا۔ بہرحال، تمیم عالمی کپ میں سنچری بنانے والے پہلے بنگلہ دیشی بلے باز تو نہیں بنے، لیکن ملک کی جانب سے ٹورنامنٹ میں طویل ترین اننگز ضرور کھیلی۔ یہ اعزاز ان سے پہلے محمد اشرفل کے پاس تھا کہ جنہوں نے عالمی کپ 2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنگلہ دیش کی یادگار جیت میں 87 رنز بنائے تھے۔

تمیم کے جانے کے بعد سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا، مشفق الرحیم اور شکیب الحسن نے وہیں سے اسے جوڑا۔ مشفق نے 42 گیندوں پر 60 رنز کی شاندار باری کھیلی۔ شکیب نے باقی کا کام انجام دیا اور شبیر رحمٰن نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، یہاں تک کہ 49 ویں اوور میں مقابلے کا خاتمہ کردیا۔ شکیب 52 اور شبیر 42 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے واپس آئے۔ دونوں نے پانچویں وکٹ پر 75 رنز بنائے اور بنگلہ دیش کو 6 وکٹوں سے اہم کامیابی دلادی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ بنگلہ دیش نے اتنا بڑا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہو جبکہ یہ عالمی کپ میں دوسرا سب سے بڑا ہدف تھا، جسے تعاقب کرتے ہوئے کسی ٹیم نے حاصل کرلیا ہو۔

چار مقابلوں میں دوسری جیت، اور آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میں بارش کی وجہ سے ایک پوائنٹ ملنے کی وجہ سے اب بنگلہ دیش 5 پوائنٹس کے ساتھ گروپ 'اے' میں چوتھے درجے پر ہے۔ بظاہر تو امیدیں روشن دکھائی دیتی ہیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ بنگلہ دیش کے آئندہ مقابلے انگلستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہیں، جہاں اس کے لیے جیتنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یعنی اگر تھوڑی بہت امید ہے تو وہ 8 مارچ کو انگلستان کے خلاف مقابلے سے ہے جہاں جیتنے کی ضرورت میں بنگلہ دیش کوارٹر فائنل تک پہنچ جائے گا۔ انگلستان کو کوارٹر فائنل کے امکانات زندہ رکھنے کے لیے اپنے باقی دونوں مقابلے لازمی جیتنے ہیں۔ دیکھتے ہیں بقاء کی یہ جنگ کیا رنگ لاتی ہے؟

بنگلہ دیش بمقابلہ اسکاٹ لینڈ

عالمی کپ 2015ء - ستائیسواں مقابلہ

بتاریخ: 5 مارچ 2015ء

بمقام: سیکسٹن اوول، نیلسن، نیوزی لینڈ

نتیجہ: بنگلہ دیش 6 وکٹوں سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: کائل کوئٹزر

رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
کائل کوئٹزر کیچ سرکار بولڈ ناصر 156 134 17 4 116.42
کیلم میکلوڈ کیچ محمود اللہ بولڈ مرتضی 11 11 2 0 100.0
ہمیش گارڈنر کیچ سرکار بولڈ تسکین 19 32 3 0 59.38
میٹ ماچن کیچ و بولڈ رحمن 35 50 2 1 70.0
پریسٹن مومسن کیچ سرکار بولڈ ناصر 39 38 2 1 102.63
رچی بیرنگٹن کیچ مشفق بولڈ تسکین 26 16 1 2 162.5
میتھیو کراس کیچ رحمن بولڈ تسکین 20 14 1 1 142.86
جوش ڈیوی ناٹ آؤٹ 4 3 0 0 133.33
ماجد حق کیچ سرکار بولڈ حسن 1 3 0 0 33.33
ایلسڈیئر ایونز ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 1، و 5، ن ب 1 7
کل رنز 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 318
گیندبازی (بنگلہ دیش) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
مشرفی مرتضیٰ 8.0 0 60 1 1 1 7.5
شکیب الحسن 10.0 0 46 1 0 1 4.6
تسکین احمد 7.0 0 43 3 0 2 6.14
روبیل حسین 8.0 0 60 0 0 1 7.5
محمود اللہ 5.0 0 29 0 0 0 5.8
شبیر رحمٰن 7.0 0 47 1 0 0 6.71
ناصر حسین 5.0 0 32 2 0 0 6.4
 (ہدف: 319 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
تمیم اقبال ایل بی ڈبلیو ڈیوی 95 100 9 1 95.0
سومیا سرکار کیچ کراس بولڈ ڈیوی 2 5 0 0 40.0
محمود اللہ بولڈ وارڈلا 62 62 6 1 100.0
مشفق الرحیم کیچ میکلوڈ بولڈ ایونز 60 42 6 2 142.86
شکیب الحسن ناٹ آؤٹ 52 41 5 1 126.83
شبیر رحمٰن ناٹ آؤٹ 42 40 4 2 105.0
فاضل رنز و 8، ن ب 1 9
کل رنز 48.1 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 322
گیندبازی (اسکاٹ لینڈ) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
این وارڈلا 9.1 0 75 1 0 2 8.18
جوش ڈیوی 10.0 0 68 2 0 5 6.8
ایلسڈیئر ایونز 10.0 1 67 1 0 0 6.7
میٹ ماچن 7.0 0 45 0 0 0 6.42
ماجد حق 10.0 0 49 0 1 1 4.9
رچی بیرنگٹن 2.0 0 18 0 0 0 9.0

Facebook Comments