[ریکارڈز] سعید اجمل کی واپسی، بدترین ایک روزہ باؤلنگ کارکردگی کے ساتھ

پاکستان کے اسپن گیندباز سعید اجمل تقریباً ساڑھے 8 مہینے کے بعد ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے، بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے پہلے مقابلے کے ساتھ لیکن خدشات کے عین مطابق، بلکہ شاید اس سے بھی کہیں زیادہ، غیر موثر ثابت ہوئے۔ سعید کو اپنے 111 ایک روزہ مقابلوں کے کیریئر میں کبھی اتنے رنز نہیں پڑے، جتنے آج شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں پڑ گئے۔

جب بنگلہ دیش ابتدائی 10 اوورز میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 44 رنز بنا چکا تھا تو پاکستان کے نئے کپتان اظہر علی نے سعید اجمل کو متعارف کروایا، جنہوں نے اپنے 4 اوورز میں رنز کے بہاؤ کو روکا اور بہت عمدہ گیندبازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی 4 اوورز میں صرف 7 رنز دیے تھے۔ لیکن جب انہیں دوسرے اسپیل کے لیے بلایا گیا، اس وقت بنگلہ دیش پاکستانی گیندبازوں پر اچھا خاصا حاوی ہوچکا تھا۔ پانچویں باؤلر کی کمی کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش 32 اوورز میں 158 رنز بنا چکا تھا، جب سعید اجمل اپنے دوسرے اسپیل کے لیے آئے۔ پہلے اوور میں تو انہوں نے صرف ایک چوکا کھایا لیکن اس کے بعد وہ مشفق الرحیم اور تمیم اقبال کے رحم و کرم پر دکھائی دیے۔ چھٹے اوور میں 13، ساتویں میں 18، آٹھویں میں 5، نویں میں 16 اور دسویں و آخری اوور میں 10 رنز دیے اور یوں 10 اوور میں 74 رنز دے بیٹھے جو ان کی بدترین کارکردگی ہے۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں ایک وکٹ بھی نہیں ملی۔ انہوں نے 8 چوکے اور 3 چھکے بھی کھائے۔

سعید اجمل سمیت پاکستان کے دیگر گیندبازوں، اور فیلڈرز، کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مجموعے 329 رنز تک پہنچا۔ جس میں تمیم اقبال اور مشفق الرحیم کی سنچریاں بھی شامل ہیں۔

بہرحال، اس سے قبل سعید اجمل کی بدترین باؤلنگ مئی 2013ء میں آئرلینڈ کے خلاف تھی۔ ڈبلن میں ہونے والے ایک روزہ میں انہوں نے 10 اوورز میں 71 رنز دیے تھے اور کوئی وکٹ نہیں لی تھی۔ اس کے علاوہ سعید اجمل پانچ مواقع کسی ایک روزہ میں 60 یا زیادہ رنز دے چکے ہیں لیکن صرف ایک بار ہی ایسا ہوا کہ انہیں کوئی وکٹ نہیں مل سکی ورنہ ہر موقع پر انہوں نے کم از کم ایک کھلاڑی کو ضرور آؤٹ کیا تھا۔

اتنے عرصے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد پہلے ہی مقابلے میں سعید سے اپنے دورِ عروج کی کارکردگی کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ ایک نئے اور غیر فطری باؤلنگ ایکشن کے ساتھ سعید اجمل کو کچھ وقت دینا ہوگا۔ لیکن اگر سعید جلد از جلد خود کو ثابت نہ کرسکے تو 37 سالہ گیندباز جلد ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔

سعید اجمل اب تک 111 ایک روزہ مقابلوں میں 22.58 کے شاندار اوسط کے ساتھ 183 وکٹیں لے چکے ہیں جن میں 24 رنز دے کر 5 وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی ہے۔ اگر وہ اس کارکردگی کو نہ بھی دہرا پائے تو کم از کم 200 وکٹیں حاصل کرنے والے گیندبازوں میں جگہ پانے کا موقع تو ان کو ملنا چاہیے۔

سعید اجمل کی بدترین ایک روزہ باؤلنگ

اوورز میڈنز رنز وکٹیں بمقابلہ بمقام بتاریخ
10 0 74 0 بنگلہ دیش ڈھاکہ 17 اپریل 2015ء
10 0 71 0 آئرلینڈ ڈبلن 23 مئی 2013ء
10 0 62 3 انگلستان دبئی 21 فروری 2012ء
10 0 62 1 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ 17 مارچ 2013ء
9.3 0 61 0 آسٹریلیا برسبین 22 جنوری 2010ء
10 0 61 3 سری لنکا دبئی 14 نومبر 2011ء
10 0 61 2 بنگلہ دیش ڈھاکہ 4 مارچ 2014ء
10 0 59 0 نیوزی لینڈ ابوظہبی 6 نومبر 2009ء

 

Facebook Comments