آفریدی کو قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے: وسیم اکرم

ماضی کے عظیم پاکستانی گیند باز وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ مصباح الحق کو ایک روزہ ٹیم کے کپتان بنائے جانے کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
36 سالہ مصباح الحق کو چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورۂ آئرلینڈ کے لیے ایک روزہ ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا، جبکہ وہ پہلے ہی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

وسیم اکرم نے آفریدی کو ہٹانے کے فیصلے سے ناخوش

وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ کپتان مصباح الحق 30 کے پیٹے میں ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ وہ 6 سے 8 ماہ سے زیادہ ٹیم کی قیادت کر پائیں گے۔

مصباح الحق سے قبل پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کی کپتانی شاہد آفریدی کے پاس تھی جن کی زیر قیادت پاکستان عالمی کپ 2011ء کے سیمی فائنل تک پہنچا تھا۔ لیکن حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں کوچ اور اُن کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع ان کی قیادت کے خاتمے پر منتج ہوا ہے۔

شاہد آفریدی کی زیر قیادت پاکستان نے 34 میں سے 18 میں فتح حاصل کی اور 15 میں شکست کھائی۔ تاہم اس میں انگلستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف سخت سیریز اور عالمی کپ بھی شامل تھا اور وسیم اکرم سمجھتے ہیں کہ ان نتائج کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاہد آفریدی کو معمولی مسائل پر قیادت سے ہٹانا غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوچ اور کپتان کے درمیان کسی بات پر اختلاف پاکستانی کرکٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، عالمی کپ کے بعد شاہد آفریدی کو قومی ہیرو سمجھا جا رہا ہے اور ویسٹ انڈیز میں سیریزجیتنے کے باوجود اسے قیادت سے ہٹا دیا گیا، سمجھ نہیں آتی کہ پی سی بی کیا کرنا چاہ رہا ہے؟۔

وسیم اکرم نے کہا کہ یہ بورڈ کا غلط فیصلہ ہے اور اس کا الزام اعجاز بٹ کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوچ تمام تر اختیارات چاہتا ہے اور جب ایسا نہیں ہوتا تو تنازع کھڑا ہوتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلے کا عجیب پہلو یہ ہے کہ اس نے شاہد آفریدی کو ٹیم میں برقرار رکھتے ہوئے انہیں صرف قیادت سے ہٹایا ہے یعنی کہ انہیں آئرلینڈ کے خلاف سیریز مصباح الحق کی زیر قیادت کھیلنا ہوگی۔

Facebook Comments