ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء، فائنل کی میزبانی کلکتہ کو ملنے کا امکان

جب 3 اپریل 2016ء کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے چھٹے عالمی چیمپئن کا فیصلہ ہوگا، دن تو طے ہے البتہ اس تاریخی مقام کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ خبریں ہیں کہ اس بار مشرقی بنگال کا شہر کلکتہ اس اعزاز کو حاصل کرے گا۔

چھٹا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 11 مارچ سے بھارت میں شروع ہوگا جس کے لیے میزبانی کی دوڑ اب زور پکڑ چکی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ کلکتے کے علاوہ دہلی، ممبئی، بنگلور، چندی گڑھ، ناگپور، اندور اور دھرم شالا کا انتخاب کیا گیا ہے یعنی چنئی اور احمد آباد میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا کوئی مقابلہ نہیں کھیلا جائے گا۔ اسے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم کی بدنصیبی کہیے کہ جب چار سال قبل 2011ء میں بھارت میں عالمی کپ کھیلا گیا تھا تب بھی اسے کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل جیسے کسی اہم مقابلے کی میزبانی نہیں ملی تھی یہاں تک کہ بھارت کا صرف ایک مقابلہ ہی اس میدان پر کھیلا گیا۔ گو کہ اس عالمی کپ میں کلکتہ کا حال بھی یہی تھا لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس شہر پر مہربانیاں ہو رہی ہیں۔ 2013ء اور اس کے بعد رواں سال انڈین پریمیئر لیگ کے فائنل کی میزبانی کرنے کے بعد ایڈن گارڈنز ایک مرتبہ پھر "بڑے مقابلے" کی میزبانی کی تیاریاں پکڑ رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے موجودہ سربراہ جگموہن ڈالمیا کا تعلق بنگال سے ہے۔

ایڈن گارڈنز ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے سلسلے میں کچھ بدقسمت ثابت ہوا ہے۔ یہاں آخری ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ اکتوبر 2011ء میں کھیلا گیا تھا یعنی چار سال ہونے والے ہیں یہاں کوئی ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہوئے۔ اس لیے اب میزبانی اس تاریخی میدان کا حق بنتی ہے۔

اگلے سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کرنے والے آٹھ شہروں میں کلکتہ کے علاوہ بھارتی دارالحکومت دہلی، ممبئی، بنگلور، چندی گڑھ، ناگپور، اندور اور دھرم شالا شامل ہوسکتے ہیں۔ دھرم شالا کی شمولیت اس لیے حیران کن نہیں کیونکہ بی سی سی آئی کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں۔

Facebook Comments