ہاشم آملہ نے درجہ بندی پر سوالات اٹھا دیے

جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ کپتان ہاشم آملہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ حالیہ درجہ بندی کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھنا مشکل ہوگیا ہے کہ کس فارمولے کے تحت ٹیم کے پوائنٹس بڑھتے یا کم ہوتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے دونوں ٹیسٹ بارش کی نذر ہوجانے کے بعد عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کو درجہ بندی میں پانچ قیمتی پوائنٹس سے محروم ہونا پڑا ہے۔ گو کہ اب بھی وہ نمبر ایک ہی ہے، اور اسے قریبی ترین حریف آسٹریلیا پر 14 پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے لیکن بغیر کھیل کے اتنے پوائنٹس گنوا بیٹھنا جنوبی افریقہ کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔ اسی لیے آملہ کہتے ہیں کہ ہم بنگلہ دیش اچھی اور مثبت کرکٹ کھیلنے گئے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہم اِس سیریز کو جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر اپنی برتری کو بڑھانے میں کامیاب ہوجائیں گے، مگر بارش کی وجہ سے دونوں ٹیسٹ نتیجہ خیز نہ ہوسکے۔ کل 10 دنوں میں سے محض 4 دن کا ہی کھیل مکمل ہوپایا۔ کرکٹ کی تاریخ میں دو ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے حوالے سے یہ دوسری مختصر ترین سیریز تھی، جس میں کل ملا کر 5400 گیندوں کا کھیل ہونا تھا لیکن محض 1855 گیندیں ممکن ہوسکیں۔ اس سے قبل 1889ء میں برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے مابین ہونے والی سیریز میں محض 1810 گیندوں کا کھیل مکمل ہوسکا تھا۔

ہاشم کا کہنا تھا کہ میری سمجھ سے یہ بات بالکل بالاتر ہے کہ جب میچ ہوا ہی نہیں، تو یہ کس طرح ممکن ہوا کہ جنوبی افریقہ کے 5 پوائنٹس کو کم کردیا جائے اور بنگلہ دیش کے پوائنٹس میں 6 ہندسوں کا اضافہ کردیا جائے۔ انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر سیریز 1-1 سے ڈرا ہوجائے تو پوائنٹس میں کمی یا اضافے کا امکان بنتا ہے مگر بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک میچ بھی مکمل نہ ہو اور اِس طرح کا نتیجہ دیکھنے کو ملے۔

مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے آملہ نے کہا کہ جس سیزیر کو کھیل کر ہم پوائنٹس ٹیبل پر اپنی برتری کر بڑھانا چاہتے تھے اُسی سیریز میں بغیر کوئی میچ مکمل ہوئے ہمارے پوائنٹس کو کم کردیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ اب بھی ہم پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک پوزیشن پر ہیں لیکن ہماری برتری کم ہوگئی اور انگلستان میں جاری ایشز سیریز جیتنے والی ٹیم اِس فرق کو مزید کم کردے گی۔ جس کے بعد ہم پر دباؤ بڑھ جائے گا کہ دورۂ بھارت کے دوران ہم ٹیسٹ سیریز کو لازمی جیتیں جو گزشتہ 15 سال میں اب تک نہیں ہوسکا۔

جنوبی افریقی کپتان نے مزید کہا کہ سیریز کو طے کرتے وقت موسم کا خیال رکھا جانا بھی ضروری ہے۔ ہم سب کو یہ بات معلوم ہے کہ جنوبی ایشیاء میں گرمیوں میں بارش کا موسم ہوتا ہے تو کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے موقع پر کوئی سیریز نہ رکھی جائے اِس طرح کھلاڑی بھی مایوس ہوتے ہیں اور شائقین بھی اچھی کرکٹ دیکھنے سے محروم رہتے ہیں۔

Facebook Comments