رو بہ زوال مائیکل کلارک، کیا شکست کیریئر کا خاتمہ کردے گی؟

ایک سال میں 11 مقابلوں میں 106 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 1595 رنز اور اس کے بعد اگلے سال 4 سنچریوں کی مدد سے 1093 مزید رنز۔ یہ تھے آسٹریلیا کے مائیکل کلارک جنہوں نے 2012ء اور 2013ء یعنی دو سالوں میں 2688 رنز بنائے جن میں ایک ٹرپل سنچری اور تین ڈبل سنچریوں سمیت کل 9 سنچریاں بھی شامل تھیں لیکن اس کے بعد "چراغوں میں روشنی نہ رہی"۔ 2014ء میں 7 مقابلوں میں صرف 35 کے اوسط کے ساتھ 429 رنز تو مایوس کن تھے ہی لیکن رواں سال 5 مقابلوں میں محض 173 رنز ظاہر کرتے ہیں کہ کلارک تیزی سے رو بہ زوال ہیں۔

مائیکل کلارک آسٹریلیا کی کرکٹ میں رکی پونٹنگ کے جانشیں ہیں اور درحقیقت ٹیم کو کھویا ہوا مقام دلانے میں ان کا بہت کردار ہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بلےبازی میں کارنامے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن گزشتہ تقریباً ایک سال سے کلارک فارم میں نہیں ہیں۔ مارچ 2014ء میں کیپ ٹاؤن میں 169 رنز کی یادگار اننگز کھیلنے کے بعد سے اب تک کلارک نے صرف ایک بار 100 کا ہندسہ عبور کیا ہے۔ بھارت کے خلاف ایڈیلیڈ میں بنائی گئی اس سنچری کے علاوہ وہ گزشتہ ایک سال میں کبھی نصف سنچری بھی نہیں بنا سکے۔ اکتوبر 2014ء میں پاکستان کے خلاف سیریز کے دو مقابلوں میں وہ صرف ایک بار دہرے ہندسے میں داخل ہوئے۔

2015ء میں کلارک اب تک 5 ٹیسٹ مقابلے کھیل چکے ہیں اور صرف 24 کے اوسط کے ساتھ 173 رنز بنائے ہیں۔ رواں سال ان کی سب سے بڑی اننگز 47 رنز کی ہے جو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن، جمیکا میں بنائے تھے۔ کیا 34 سالہ کلارک کی کرکٹ کا خاتمہ ہوگیا ہے؟ کیا فارم اور بارہا زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں کرکٹ چھوڑ دینی چاہیے؟ چند حلقے تو یہی مطالبہ کررہے ہیں لیکن کلارک کہتے ہیں کہ وہ "ریٹائر نہیں ہو رہے۔"

ابھی چند روز قبل برمنگھم میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں کلارک 10 رنز تک پہنچے ہی تھی کہ اسٹیون فن کی ایک گیند نے ان کے دماغ کی بتی گل کردی۔ ایک ایسی گیند جسے کلارک جیسا پائے کا بلے باز باآسانی اگلے قدموں پر ڈرائیو کرسکتا تھا، محض اس لیے شاہکار بن گئی کہ وہ تذبذب میں مبتلا ہوگئے اور کریز میں جم گئے۔ نتیجہ، گیند یارکر بن گئی اور ان کی وکٹیں بکھیر گئی۔ دوسری اننگز میں بھی فن ہی کی گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی سلپ میں پہنچ گئی۔ اس طرح ناکامیوں کی داستان میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگیا۔ اب اگر ناٹنگھم میں ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی تو شاید کلارک تاریخی شکست کا صدمہ برداشت نہ کرسکیں۔

لیکن فی الحال تو وہ یہ یہی کہہ رہے ہیں کہ "میں سخت مشق اور تربیت کررہا ہوں اور جس طرح کارڈف کی شکست کے بعد دوسرے ٹیسٹ میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی، اسی طرح اب ناٹنگھم میں بھی واپس آنے کی کوشش کریں گے۔"

انگلستان کے ہاتھوں 2013ء کی شکست کا بدلہ تو کلارک نے اپنے میدانوں پر پانچ-صفر کی کامیابی سے لے لیا تھا۔ لیکن کیا وہ اس بار آسٹریلیا اور ساتھ ساتھ اپنے کیریئر کو بچا پائیں گے؟ اس کا تمام تر انحصار آسٹریلیا کی ایشیز میں کامیابی پر ہے۔

Facebook Comments