'کھسیانی بلی کھمبا نوچے' سابق ویسٹ انڈین کھلاڑیوں نے سعید اجمل کے ایکشن کو مشکوک قرار دے دیا

ماضی کے عظیم ویسٹ انڈین کھلاڑی سر ویوین رچرڈز نے پاکستان کے مایہ ناز اسپنر سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے مشکوک قرار دے دیا ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلی گئی 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں سعید اجمل نے 17 وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت پاکستان سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوا۔ پوری سیریز میں ویسٹ انڈیز کا کوئی بلے باز سعید اجمل کی گیند بازی، خصوصاً 'دوسرا'، کو سمجھنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈین ماہرین 'کھسیانی بلی کھمبا نوچے' کی مصداق ان کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔

سعید اجمل کو 17 وکٹیں حاصل کرنے پر مین آف دی سیریز قرار دیا گیا

ویوین رچرڈز نے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس وقت دنیا بھر کے آف اسپنرز کے باؤلنگ ایکشنز کو دیکھا جائے تو وہ سب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے 15 درجے کے زاویے کے قانون کی پیداوار لگتے ہیں۔ میں اور ماہرین کی طرح شور شرابہ تو نہیں کروں گا لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایسے قوانین ہی ہیں جنہوں نے اس عمل کو فروغ دیا ہے۔

بازو کو 15 درجے کے زاویے تک موڑنے کی اجازت دینے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا تھا جب بایو مکینیکل ماہرین نے پایا کہ بیشتر باؤلرز اپنے ایکشن میں معمولی سا خم رکھتے ہیں۔ پاک-ویسٹ انڈیز سیریز میں سعید اجمل کے ایکشن پر اعتراض کرنے والی آوازوں میں ویون رچرڈز کی آواز نئی ہے۔ ان سے قبل سابق تیز گیند باز مائیکل ہولڈنگ اور ویسٹ انڈیز کے بزرگ صحافی ٹونی کوزیئر بھی سیریز کے دوران شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔

ویسٹ انڈیز سیریز کے دوران پاکستانی اسپنرز خصوصا سعید اجمل کے خلاف بھرپور جدوجہد کرتا دکھائی دیا اور دوسرے ٹیسٹ میں 196 رنز کی بدترین شکست کا اہم سبب بھی پاکستانی اسپنرز تھے جنہوں نے میچ میں گرنے والی 20 میں سے 15 وکٹیں حاصل کیں جن میں سعید اجمل کے ہاتھ 6 وکٹیں لگیں۔ گیانا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھی ویسٹ انڈین بلے باز اسپنرز کو کھل کر نہیں کھیل پائے تھے گو کہ ویسٹ انڈیز نے وہ میچ جیت لیا تھا لیکن پورے میچ میں اس کی صرف تین وکٹیں ہی پاکستانی فاسٹ باؤلرز کے ہاتھ لگیں، باقی سب اسپنرز کے حصے میں آئی تھیں۔

معروف ویسٹ انڈین صحافی اور کمنٹیٹر ٹونی کوزیئر نے پہلے ٹیسٹ کے دوران سعید اجمل کی تباہ کن باؤلنگ دیکھنے کے بعد ہی اپنے ایک کالم میں کہا تھا کہ پاکستانی اسپنرز سعید اجمل اور محمد حفیظ آئی سی سی کے 15 درجے زاویے کے قانون کو توڑ رہے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے زیادہ زور سعید اجمل پر دیا کہ وہ اس قانون کی زیادہ خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعید اجمل اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں آسٹریلیا کے خلاف شاندار باؤلنگ کے بعد بھی متنازع باؤلنگ ایکشن کی زد میں آئے تھے لیکن بعد ازاں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان کے ایکشن کو کلیئر قرار دے دیا تھا۔

سعید اجمل کو گزشتہ چند سالوں سے مستقل کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں اور کسی ٹیم نے ان کے ایکشن پر اعتراض نہیں کیا۔ حالیہ عالمی کپ میں بھی انہوں نے پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا حتی کہ سیمی فائنل میں بھی انہوں نے سچن ٹنڈولکر سمیت دیگر بھارتی بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا تاہم ان کے بالنگ ایکشن کے خلاف آواز کہیں سے بلند نہیں ہوئی لیکن ویسٹ انڈیز پہنچتے ہی ہمیشہ کی طرح ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔

1993ء میں چار پاکستانی باؤلرز وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد اور عاقب جاوید پر نشہ کرنے کا الزام لگا کر قید کرنے کے معاملے سے لے کر متنازع امپائرنگ تک پاکستان کو ہر مرتبہ ویسٹ انڈیز میں کسی نہ کسی طرح تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور شاید سعید اجمل کے خلاف یہ مہم بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

Facebook Comments