مرکزی معاہدوں کا اعلان، کھلاڑیوں کے وارے نیارے

پاکستان کے کھلاڑیوں کے لیے انتظار کی گھڑیاں تمام ہوئیں اور بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سنیچر کو مرکزی معاہدوں (سینٹرل کانٹریکٹس) کا اعلان کردیا، جس کے مطابق کل 27 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ کے قابل سمجھا گیا ہے جن کو 4 زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ بھی کیا گیا ہے اور ساتھ ہی فتوحات پر انعامات و اکرامات کا اعلان بھی ہوا ہے۔ لیکن اس مرتبہ بھی معاہدے حیرت سے خالی نہیں ہیں، شعیب ملک اور محمد حفیظ کو درجہ اول دیا گیا ہے۔

ٹیسٹ کپتان مصباح الحق، ایک روزہ دستے کے قائد اظہر علی، ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی اور یونس خان کے ساتھ ساتھ حیران کن طور پر محمد حفیظ اور شعیب ملک کو زمرہ اول یعنی کیٹیگری 'اے' میں جگہ دی گئی ہے۔ حفیظ تو خیر پہلے بھی اسی زمرے میں تھے، لیکن ٹی ٹوئنٹی کپتان کی حیثیت ختم ہونے اور اب آل راؤنڈر کا تمغہ بھی چھن جانے کے بعد ان کی اس زمرے میں موجودگی کھٹکتی ہے۔ لیکن جب شعیب ملک کو دیکھتے ہیں تو حفیظ والی حیرت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مانا کہ ان کی حالیہ کارکردگی اچھی رہی ہے اور انہوں نے کچھ اہم اننگز کھیلی ہیں لیکن ایک کھلاڑی جو چھ ماہ قبل چوتھے درجے کے معاہدے کے قابل بھی نہ سمجھا گیا تھا، یکدم درجہ اول کی سہولیات کا حقدار قرار پایا ہے۔ بہرحال، اس کی اپنی وجوہات ہوں گی۔ اظہر علی کو پچھلے معاہدے میں درجہ سوئم میں جگہ ملی تھی لیکن عالمی کپ 2015ء کے بعد مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو قیادت سونپی گئی، جس کا ایک اور فائدہ انہیں مرکزی معاہدے میں بھی ملا ہے۔

شعیب ملک کی درجہ اول میں آمد سے جنید خان کی تنزلی ہوگئی ہے، جو ایک درجہ گھٹ کر اب دوسرے درجے میں آ گئے ہیں جہاں احمد شہزاد، اسد شفیق اور وہاب ریاض بھی موجود ہیں۔ سعید اجمل، جو پچھلے معاہدے تک مشکلات سے دوچار ضرور تھے، لیکن ان کے کیریئر پر ابھی سوالیہ نشان نہیں پیدا ہوا تھا، بھی دوسرے درجے میں ہیں۔ جو کھلاڑی ترقی پا کر یہاں پہنچے ہیں ان میں شاندار کارکردگی دکھانے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد اور لیگ اسپنر یاسر شاہ بھی شامل ہیں جبکہ راحت علی کو بھی کیٹیگری 'بی' میں ڈال دیا گیا ہے۔

درجہ سوئم میں نوجوان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں، گو کہ ان میں سے چند کو اب نوجوان کہنا مناسب نہیں لگتا جیسا کہ محمد عرفان اور فواد عالم۔ بہرحال، ان دونوں کے علاوہ اس زمرے میں انور علی، حارث سہیل، عمران خان، محمد رضوان، شان مسعود اور عمر اکمل ہیں۔ جی ہاں، پاکستان کا 'باصلاحیت' ترین بلے باز عمر اکمل، مزید نیچے تیسرے زمرے میں آ گیا ہے یعنی ہر گزرتی ششماہی کے ساتھ ان کے کھیلے گئے مقابلوں کے ساتھ ساتھ تنخواہ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اب پاکستان سپر لیگ میں دھواں دار کارکردگی ہی عمر اکمل کے مستقبل کو بچا سکتی ہے، ورنہ ان کا حال تو خاصا برا دکھائی دیتا ہے۔ کہاں قومی کرکٹ ٹیم کا لازمی جز رہنے والا بلے باز اور کہاں یہ حال۔

چوتھے زمرے میں قومی ٹیم کے غیر مستقل اراکین ہیں۔ ذوالفقار بابر، بابر اعظم، سمیع اسلم، صہیب مقصود اور عمر امین۔ یعنی اب لے دے کر عمر گل رہ گئے، جنہیں اس بار کسی معاہدے سے نہیں نوازا گیا یعنی بین الاقوامی کیریئر پر اب سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔

پرکشش تنخواہوں کے علاوہ بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے اس بار انعامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ درجہ بندی میں بہتر ٹیم کو شکست دینے، سیریز جیتنے یا ٹیسٹ اور ایک روزہ میں محض برابر بھی کرنے پر کھلاڑیوں کو نوازا جائے گا۔ اہم مقابلوں میں فاتحانہ کارکردگی دینے والے کھلاڑیوں کو بھی انعامات ملیں گے۔

Facebook Comments