سچن؟ کون سچن؟

آپ کو یاد ہوگا جب گزشتہ سال ٹینس کے مشہور گرینڈ سلام ٹورنامنٹ ومبلڈن میں سابق عالمی نمبر ایک ماریا شیراپوا نے سچن تنڈولکر کا نام آنے پر کہا تھا کہ وہ انہیں نہیں جانتیں، تو کتنا ہنگامہ ہوا تھا؟ ماریا کا تعلق روس سے تھا، ان کے ملک کا کرکٹ سے دور پرے کا واسطہ بھی نہیں تھا اور اس سے بھی بڑھ کر وہ امریکا میں رہتی تھیں، جہاں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی۔ اگر وہ سچن کو نہیں جانتی تھیں تو ان کا اتنا قصور بھی نہیں تھا لیکن جس ملک کا قومی کھیل کرکٹ ہو، اس ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن ہی سچن تنڈولکر کو نہ جانتی ہو تو کیا کہا جائے؟ اس پر تو بھارت کے شائقین کا غصہ بجا ہے۔

واقعہ دراصل یہ ہے کہ سچن تنڈولکر نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے برٹش ایئرویز سے شکایت تھی کہ ان کا سامان غلط مقام پر پہنچا دیا گیا ہے اور جہاز میں نشست ہونے کے باوجود اہل خانہ کے ایک رکن کو نہیں دی گئی۔ شکایت کے باوجود اس معاملے میں بے پروائی اختیار کی گئی۔ اس ٹوئٹ کے جواب میں برٹش ایئرویز نے کہا کہ آپ اپنا مکمل نام، پتہ اور سامان کا ریفرنس نمبر دیں، ہم اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔

sachin-tweets-BA

اس جواب پر بھارت میں ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے کہ "آخر کسی کو جرات کیسے ہوئی کہ وہ سچن کو نہ پہچانے"۔

ویسے اس وقت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ زیادہ جذباتی ہوگئے تو وہ بھارت کے "اہم ترین مسئلے" پر دھواں دار تقریر نہ شروع کردیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہولوکاسٹ سے انکار کی طرح بھارت میں سچن کو نہ پہچاننے پر سخت سزا کا اعلان کردیا جائے۔ کیا خیال ہے؟

Article Tags

Facebook Comments