انگلستان بھی پاک بھارت سیریز کا خواہاں

جب آپ سے کوئی فرد کسی کام کو کرنے کا منع کرے اور آپ اُس کی بات ماننے سے مسلسل انکار کریں تو وہ آپ سے کہے گا کہ جناب کیا لکھ کر دوں کہ میں آپ کا کام نہیں کرسکتا؟ لیکن بھارتی بورڈ تو لکھ کر بھی دے چکا ہے کہ کرکٹ سیریز صرف بھارت میں ہی کھیلیں گے مگر ناجانے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان کب یہ بات سمجھیں گے۔

بھارتی بورڈ کے صدر ششانک منوہر نے گزشتہ روز نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شہریار خان کے روز روز کے بیان سے پریشان ہوچکے ہیں، لیکن اُس تلخ بیان کے بعد اپنے حالیہ بیان میں شہریار خان کا کہنا تھا کہ وہ دبئی میں ہیں اور ششانک منوہر بھی یہی ہیں، اگرچہ ہماری کوئی ملاقات تو طے نہیں ہے لیکن اگر اُنہوں نے ملاقات کا کہا تو وہ تیار ہیں۔

شہریار خان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سات برسوں سے کوئی سیریز ممکن نہیں ہوسکی ہے، سیریز کے انعقاد کی خواہش صرف دونوں ممالک کی عوام میں نہیں بلکہ اب تو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے صدر جائلز کلارک نے بھی اِس پاک بھارت سیریز کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

شہریار خان کا کہنا ہے کہ جائلز کلارک بھی کوشش کررہے ہیں کہ سیریز کا انعقاد ممکن ہوسکے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیل کی بحالی صرف دونوں ممالک کے ہی حق میں نہیں بلکہ کرکٹ کے مفاد میں بھی ہے۔ پی سی بی چئیرمین نے بتایا کہ جائلز کلارک اِس حوالے سے بی سی سی آئی کے صدر کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں گے، کیونکہ کھیل میں رکاوٹ پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے۔

شہریار خان نے مزید بتایا کہ وہ بھی دبئی میں ہیں، بھارت بورڈ کے صدر بھی یہیں ہیں مگر اُن کی ششانک منوہر سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے، لیکن اگر ششانک منوہر نے سیریز کے انعقاد کے حوالے سے ملنے کی خواہش کی وہ ضرور ملیں گے۔

لیکن اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شہریار خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شروع سے خواہش رہی ہے کہ بھارت کے خلاف دسمبر میں شیڈول سیریز کا انعقاد ضرور ہو، مگر بھارتی بورڈ اِس میں رکاوٹ ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے واضح طور پر احکامات جاری کیے ہیں کہ سیریز کے حوالے سے آخری فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی، تو پی سی بی صرف کوششیں کررہی ہے کہ سیریز کا انعقاد ممکن ہوسکے، اِس طرح نہ کرکٹ کو فائدہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کی عوام کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔

اگر معاملات طے پاجاتے ہیں کہ دونوں ممالک اگلے ماہ متحدہ عرب امارات میں دو ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلے گی۔

Facebook Comments