پاکستان کے لیے 250 کا معمولی ہدف بھی ہمالیہ جیسا

یہ زمانہ ہے 300 سے بھی زیادہ رنز کے ہدف کو باآسانی حاصل کرنے کا، بلکہ اب تو ٹیمیں 400 رنز پڑنے کے بعد بھی حوصلہ نہیں ہارتیں۔ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کا 2006ء کا مشہور ایک روزہ ایک طرف رکھ بھی دیں تو 2009ء میں بھارت اور سری لنکا کے مقابلے میں دونوں اننگز میں 400 سے زیادہ رنز کا بننا اور پھر ابھی چند مہینے پہلے ہی اوول میں نیوزی لینڈ-انگلستان ایک روزہ میں انگلستان کا 379 رنز کےجواب میں 46 اوورز میں 365 رنز بنانا، بڑی مثالیں ہیں۔ لیکن اس دور میں بھی پاکستان کے لیے 250 رنز کا معمولی ہدف تصور سے زیادہ بڑی مشکل بنا ہوا ہے۔

انگلستان کے خلاف مکمل ہونے والی ایک روزہ سیریز میں وہ برتری حاصل کرنے کے باوجود دو مقابلے اس طرح ہارا کہ 250 یا اس سے زیادہ رنز کے ہدف حاصل نہ کرسکا۔ یہ دونوں وہی مقابلے تھے جن سے سیریز کا فیصلہ ہوا۔ پہلے دوسرے ایک روزہ میں جہاں پاکستان کی برتری کا خاتمہ ہوا اور پھر آخری میں کہ جہاں پاکستان کو سیریز میں شکست سے بچنے کے لیے لازمی کامیابی کی ضرورت تھی۔ دوسرے ایک روزہ میں پاکستان صرف 284 رنز کے ہدف کے تعاقب میں دباؤ کا اتنا شکار دکھائی دیا کہ صرف 80 رنز پر اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ زیادہ دیر نہیں لگی اور پوری ٹیم 188 رنز پر ڈھیر ہوگئی جبکہ چوتھے میں 'مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا' لیکن 356 رنز کا ہدف ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ جب پاکستان کی اننگز 41 ویں اوور میں مکمل ہوئی تو 271 رنز اسکور بورڈ پر موجود تھے۔ اگر وکٹیں ہوتیں تو بلاشبہ بہت دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملتا۔ بہرحال، یہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کی 250 یا اس سے زیادہ رنز کے تعاقب میں ایک اور ناکامی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے ان سالوں میں صرف 5 ایسے مقابلے جیتے ہیں، جس میں اسے 250 یا اس سے زیادہ رنز کا ہدف ملا۔

گزشتہ تقریباً پانچ سالوں کے دوران، یعنی فروری 2011ء سے اب تک، پاکستان کو کل 29 ایک روزہ مقابلوں میں 250 یا اس سے زیادہ رنز کے ہدف کا سامنا کرنا پڑا ہے اور شاید ہی پاکستان کبھی اس کے دباؤ سے نکل پایا ہو۔ صرف تین مرتبہ سری لنکا کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں، اور ایک، ایک بار بنگلہ دیش اور زمبابوے جیسے معمولی حریفوں کو شکست دی۔ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، انگلستان، نیوزی لینڈ اور روایتی حریف بھارت کے خلاف ہمیشہ پاکستان کو اتنے ہدف کے تعاقب میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ صورت حال اب "کچھ بہتر" ہوئی ہے ورنہ 2011ء سے 2014ء تک پاکستان 250 سے زیادہ رنز کے تعاقب میں مسلسل 12 میچز میں ناکام رہا۔ مارچ 2014ء میں ایشیا کپ میں یادگار کامیابی کے ساتھ یہ سلسلہ ٹوٹا جہاں پاکستان نے پہلے بنگلہ دیش کے خلاف 327 رنز کے ہدف کا تعاقب کیا اور پھر اسی سال دورۂ سری لنکا میں ایک ناقابل یقین کامیابی حاصل کی۔ پاکستان 275 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 106 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہوگیا تھا جب فواد عالم اور صہیب مقصود کی عمدہ شراکت داری نے کامیابی کی راہ ہموار کی۔

ان دو کامیابیوں کے بعد پھر شکستوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان مسلسل ایسے میچز میں شکست سے دوچار ہوا، جن میں نیوزی لینڈ کے خلاف تین اور سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف ایک، ایک مقابلے میں شکست شامل ہیں۔ پھر بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں رواں سال عالمی کپ میں بھی شکست ہوئی بلکہ اس کے بعد بنگلہ دیش میں بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک-آسٹریلیا ایک روزہ سیریز برابر، 10 دلچسپ اعداد و شمار

ناکامی پر ناکامی کے بعد پاکستان نے زمبابوے اور سری لنکا کے دورے کیے اور کچھ اوسان بحال کیے۔ سری لنکا کے دورے پر آخری ایک روزہ میں ایسے ہی ایک ہدف میں ناکامی کے بعد پاکستان اب تک مسلسل چار میچز ہار چکا ہے، جہاں اسے 250 یا اس سے زیادہ رنز کا ہدف درپیش ہو۔ ان میں زمبابوے ہاتھوں مایوس کن شکست بھی شامل ہے کہ جہاں پاکستان کو 277 رنز بنانے تھے اور اس کے 6 کھلاڑی صرف 76 رنز پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ یہاں شعیب ملک نے پہلے عامر یامین اور بعد میں یاسر شاہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو تقریباً جتوا دیا تھا لیکن بارش نے کام خراب کردیا اور زمبابوے ڈک ورتھ لوئس کی مدد سے صرف 5 رنز سے جیت گیا۔

گزشتہ 29 میں سے صرف 5 مقابلوں میں کامیابی اور 'ہوم سیریز' میں شکستوں کے طویل سلسلے کے بعد اب پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی پوری طرح بج چکی ہے۔ ایک روزہ میں شکستوں کے اس سلسلے کو روکا نہ گیا تو مستقبل میں محدود اوورز کی کرکٹ میں سنگین مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے تین میں سے دو بڑے اعزازات اسی ایک روزہ طرز کی کرکٹ میں دیے جاتے ہیں، یعنی عالمی کپ اور چیمپئنز ٹرافی۔ اگر کارکردگی یہی رہی تو پاکستان کے عالمی اعزازات جیتنے کے امکانات بھی ختم ہوجائیں گے۔

250 یا اس سے زائد ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی کارکردگی

فروری 2011ء تا حال

بمقابلہ اسکور ہدف نتیجہ بمقام بتاریخ
پاکستان نیوزی لینڈ 254 312 شکست آکلینڈ 5 فروری 2011ء
پاکستان نیوزی لینڈ 192 303 شکست پالی کیلے 8 مارچ 2011ء
پاکستان بھارت 231 261 شکست موہالی 30 مارچ 2011ء
پاکستان انگلستان 130 261 شکست ابوظہبی 13 فروری 2012ء
پاکستان انگلستان 230 251 شکست ابوظہبی 15 فروری 2012ء
پاکستان سری لنکا 204 281 شکست پالی کیلے 9 جون 2012ء
پاکستان جنوبی افریقہ 190 316 شکست بلوم فاؤنٹین 10 مارچ 2013ء
پاکستان جنوبی افریقہ 309 344 شکست جوہانسبرگ 17 مارچ 2013ء
پاکستان جنوبی افریقہ 191 260 شکست ابوظہبی 6 نومبر 2013ء
پاکستان جنوبی افریقہ 238 267 شکست ابوظہبی 8 نومبر 2013ء
پاکستان جنوبی افریقہ 151 269 شکست شارجہ 11 نومبر 2013ء
پاکستان سری لنکا 284 297 شکست فتح اللہ 25 فروری 2014ء
پاکستان بنگلہ دیش 329 327 فتح ڈھاکہ 4 مارچ 2014ء
پاکستان سری لنکا 277 275 فتح ہمبنٹوٹا 23 اگست 2014ء
پاکستان سری لنکا 233 311 شکست ہمبنٹوٹا 26 اگست 2014ء
پاکستان آسٹریلیا 162 256 شکست شارجہ 7 اکتوبر 2014ء
پاکستان  نیوزی لینڈ 292 300 شکست ابوظہبی 17 دسمبر 2014ء
پاکستان  نیوزی لینڈ 207 276 شکست ابوظہبی 19 دسمبر 2014ء
پاکستان  نیوزی لینڈ 250 370 شکست نیپئر 3 فروری 2015ء
پاکستان  بھارت 224 301 شکست ایڈیلیڈ 15 فروری 2015ء
پاکستان ویسٹ انڈیز 160 311 شکست کرائسٹ چرچ 21 فروری 2015ء
پاکستان بنگلہ دیش 250 330 شکست میرپور 17 اپریل 2015ء
پاکستان زمبابوے 269 269 فتح لاہور 29 مئی 2015ء
پاکستان  سری لنکا 259 256 فتح دمبولا 11 جولائی 2015ء
پاکستان سری لنکا 257 257 فتح کولمبو 22 جولائی 2015ء
پاکستان سری لنکا 203 369 شکست ہمبنٹوٹا 26 جولائی 2015ء
پاکستان زمبابوے 256 262 شکست ہرارے 3 اکتوبر 2015ء
پاکستان انگلستان 188 284 شکست ابوظہبی 13 نومبر 2015ء
پاکستان انگلستان 271 356 شکست دبئی 20 نومبر 2015ء

Facebook Comments