”پاکستانی، ٹیسٹ کے بے تاج بادشاہ قرار“، سال کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل

گزشتہ کافی عرصے سے پاکستان کی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کارکردگی مایوس کن ہے لیکن اسی عرصے میں حیران کن طور پر پاکستان ٹیسٹ ناقابلِ یقین رہی ہے۔ شاید ہی دنیا کی کوئی ایسی قابل ذکر ٹیم ہو جس کے خلاف پاکستان نے ٹیسٹ فتوحات حاصل نہ کی ہیں۔ رواں سال بھی سری لنکا، بنگلہ دیش اورانگلینڈ کے خلاف یادگار کامیابیاں سمیٹیں اور عالمی درجہ بندی میں پاکستان دوسرے نمبر تک آیا۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2015ء کے بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے تو اس میں ایک، دو نہیں بلکہ تین پاکستانی کھلاڑی شامل ہیں۔

آئی سی سی نے ٹیسٹ ٹیم کے انتخاب کے لیے 18 ستمبر 2014ء سے 13 ستمبر 2015ء کے درمیان ہونے والے مقابلوں کو مدنظر رکھا۔ ٹیم کا انتخاب سابق بھارتی کپتان انیل کمبلے کی زیر صدارت کمیٹی نے کیا جس میں سابق ویسٹ انڈیز تیز باؤلر این بشپ، سابق انگلش بیٹسمین مارک بوچر، آسٹریلیا کی خواتین ٹیم کی سابق کپتان بیلنڈا کلارک اور بھارت کے معروف اخبار 'دی ہندو' کے نائب مدیر جی وشوناتھ شامل تھے۔

اعلان کردہ دستے کی قیادت انگلستان کے کپتان ایلسٹر کک کے پاس ہے۔ یوں کک نہ صرف چوتھی بار سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑیوں میں شامل ہوئے بلکہ دوسری بار کپتان بھی بنے۔ ٹیم میں شامل انگلستان کے تیز گیندباز اسٹور براڈ کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ لگاتار پانچویں سال اس دستے میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ 2009ء سے اب تک اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ حیران کن طور پر پاکستان کے کپتان مصباح الحق اچھی کارکردگی باوجود ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے حالانکہ اس عرصے کے دوران انہوں نے تیز ترین ٹیسٹ سنچری کا ریکارڈ بھی توڑا اور پاکستان کی فتوحات میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔ مگر ان کی جگہ پاکستان کے نئے خون یعنی یاسر شاہ اور سرفراز احمد کو جگہ دی گئی ہے اور ان کے حوصلوں کو بڑھایا گیا ہے۔

'ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر' میں آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر، اسٹیون اسمتھ اور جوش ہیزل ووڈ، نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن اور ٹرینٹ بولٹ، انگلستان کے ایلسٹر کک، اسٹورٹ براڈ اور جو روٹ جبکہ پاکستان کے یونس خان، یاسر شاہ اور سرفراز احمد شامل ہیں۔ یوں پاکستان، انگلستان اور آسٹریلیا کے تین، تین کھلاڑی ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کے دو کھلاڑیوں کے ساتھ 11 کھلاڑی مکمل ہوئے البتہ بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے بھارت کے روی چندر آشون کا انتخاب ہوا ہے۔

ICC-Test-team-of-the-year-2015

یہ ٹیم جتنی حوصلہ کن ہے ایک روزہ میں پاکستان کی کارکردگی ہی کی بدولت اتنا ہی مایوس کن منظر ہے۔ یہاں پاکستان کا ایک کھلاڑی بھی جگہ نہیں پا سکا۔ بہرحال، دستہ بہت شاندار ہے کہ جس کی قیادت جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز کے پاس ہے جبکہ حال ہی میں ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہنے والے کمار سنگاکارا بھی اس میں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہ عرصہ ہے جس میں عالمی کپ 2015ء جیسا اہم ٹورنامنٹ بھی کھیلا گیا اور کسی حد تک وہاں پیش کی گئی کارکردگی کی جھلک بھی اس ٹیم میں دکھائی دیتی ہے۔ دستے میں سری لنکا کے تلکارتنے دلشان اور کمار سنگاکارا، جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز، ہاشم آملا اور عمران طاہر، عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ اور مچل اسٹارک، فائنل میں شکست کھانے والے نیوزی لینڈ سے روس ٹیلر اور ٹرینٹ بولٹ جبکہ بھارت سے محمد شامی اور بنگلہ دیش سے مستفیض الرحمٰن بھی شامل ہیں۔ جی ہاں! تاریخ میں پہلی بار بنگلہ دیش کے کسی کھلاڑی نے اس اہم اعزاز کو حاصل کیا ہے اور بلاشبہ مستفیض اس کے حقدار تھے۔ نوجوان گیندباز نے اپنے کیریئر کے آغاز سے ہی تباہی مچا رکھی ہے اور ان کی گیندوں کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے بیٹسمین ڈھیر ہوئے ہیں۔ بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے انگلستان کے جور وٹ کا انتخاب ہوا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک روزہ میں بھی انہوں نے کس دل جمعی کے ساتھ کارکردگي دکھائی ہے۔

ICC-ODI-team-of-the-year-2015

ٹیموں کے انتخاب پر انیل کمبلے نے کہا کہ وہ ٹیسٹ اور ایک روزہ دستوں میں شامل ہونے والے تمام ہی کھلاڑیوں کو مبارک باد دیتے ہیں کیونکہ وہ سب سخت ترین مراحل سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ بے شمار کھلاڑیوں میں سے ان چند کا انتخاب ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے چوٹی کے کھلاڑیوں میں سے صرف 12 کا انتخاب کرنا ہر گز آسان کام نہیں تھا۔ ایک سال کا یہ عرصہ کرکٹ کے لیے بہت مصروف رہا، جس میں بہت عمدہ کرکٹ کھیلی گئی اور سبھی جانتے ہیں کہ اچھی کرکٹ کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی کے بغیر ممکن نہیں۔

Facebook Comments