”زخمی شیروں“ کا مقابلہ، انگلستان کو درپیش اہم سوالات

جنوبی افریقہ کے بھارت کے میدانوں میں اور انگلستان کو متحدہ عرب امارات کے صحراؤں میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب دونوں ”زخمی شیر“ 26 دسمبر سے ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے۔

یہ ٹیسٹ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ جنوبی افریقہ کے لیے اس لیے کہ ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں اس کی پہلی پوزیشن کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اس کی بادشاہت کا دارومدار اب آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری رہنے والی سیریز پر منحصر ہے۔ آسٹریلیا پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرچکا ہے اور اگر تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ویسٹ انڈیز کو کلین سویپ کردیا تو جنوبی افریقہ کے لیے ضروری ہو جائے گا کہ انگلستان کے خلاف سیریز کم از کم ڈرا کرے۔ دوسری جانب انگلستان کے لیے یہ سیریز یوں بہت اہم ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سیریز ہار چکا ہے اور اگر جنوبی افریقہ کے خلاف بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تو نئے کوچ ٹریور بیلس کی اہلیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔ اس لیے سیریز کے آغاز سے پہلے چند سوالات ایسے ہیں جن کا جواب انگلستان کے پاس ہونا چاہیے۔

سوال نمبر ایک: کیا انگلستان جنوبی افریقہ کے خلاف انہی اوپنرز کے ساتھ اننگز کا آغاز کرے گا جن کو افتتاحی بلے باز کی حیثیت سے لے جایا گیا ہے؟

یہ سوال پڑھ کر آپ حیرت میں مبتلا ضرور ہوئے ہوں گے کہ بھلا یہ کیا سوال ہوا؟ اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف سیریز میں ایلسٹر کک کے ساتھ معین علی کا تجربہ کیا گیا تھا جو کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے اس بار ایلکس ہیلز اور نک کومپٹن کا نام دستے میں شامل کیا گیا ہے۔ ہیلز کی کارکردگی ایک روزہ مقابلوں میں یقیناً اچھی رہی ہے مگر ٹیسٹ مقابلوں میں اب تک ان کو آزمایا نہیں گیا اور جنوبی افریقہ کی سرزمین پر عالمی نمبر ایک کے خلاف ان کا پہلا میچ کسی آزمائش سے کم نہ ہوگا۔ دوسری جانب کومپٹن ہیں، جن کے بعد طویل طرز کی کرکٹ کا تجربہ تو ہے مگر 2013ء کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ سے دور ہیں۔

انگلستان دورے پر اپنا پہلا ٹور میچ کھیل چکا ہے، جس میں کک اور ہیلز دونوں ناکام رہے ہیں، لیکن چونکہ کک کی جگہ مستحکم ہے اس لیے ہیلز کے بارے میں دو رائے ہو سکتی ہیں۔ وہ جارحانہ بلے بازی پسند کرتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بیٹنگ کرتے ہیں جبکہ کومپٹن کا معاملہ برعکس ہے۔ اب یہ ٹیم انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ کک کی طرح گیندبازی کرنے والے کومپٹن کو موقع دیتی ہے یا پھر ہیلز کا انتخاب ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ انگلستان نے جنوبی افریقہ کا آخری دورہ 2012ء میں کیا تھا وار اس سیریز کے بعد سے اب تک اوپننگ کے لیے 7 تجربات ہو چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں انگلستان کی ٹیم ایک ہی جوڑی سے اننگز کا آغاز کرے گی یا پھر اس مرتبہ بھی مختلف تجربات تجربات کی ضرورت محسوس ہوگی۔

سوال نمبر دو: جوس بٹلر کو ایک اور موقع دینا ٹھیک ہوگا؟

جوس بٹلر کو بہت امیدوں کے ساتھ انگلستان کے دستے میں شامل کیا گیا تھا مگر اب تک ان کی کارکردگی کو دیکھیں تو یہ تمام امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے خلاف سیریز کے تینوں مقابلے میں خراب کارکردگی کے بعد انہیں ڈراپ کردیا گیا۔ اگر ان کے کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو 12 مقابلوں میں 23.88 کے اوسط سے 430 رنز ہی بنا پائے ہیں۔ ان کی جگہ جونی بیئرسٹو کو دی گئی اور کوچ ٹریور بیلس کے مطابق ‘باکسنگ ڈے’ ٹیسٹ میں وہی وکٹوں کے پیچھے ذمہ داری نبھائیں گے۔

لیکن اگر ایک روزہ کی بات کی جائے تو بٹلر نے کئی مواقع پر جارحانہ اننگز کھیلی ہیں، مگر وہ بھی اتنی نمایاں نہيں کہ اس کی بنیاد پر وہ بیئرسٹو کی جگہ لے سکیں۔

ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بٹلر پر وکٹ کیپنگ کی اضافی ذمہ داریاں ہٹا دی جائے اور ان کو بلے بازی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیا جائے اور جب کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے تو پھر انہیں حتمی دستے میں ضرور شامل کیا جا سکتا ہے۔

سوال نمبر تین: انگلستان کے لیے تسلی بخش نتیجہ کیا ہوگا؟

یہ بلاشبہ اہم ترین سوال ہے۔ آخری بار دورۂ جنوبی افریقہ پر میزبان کے پاس تجربہ کار گریم اسمتھ اور ژاک کیلس موجود تھے، جو اس مرتبہ نہیں ہوں گے۔ لیکن جنوبی افریقہ کو اب بھی ابراہم ڈی ولیئرز، ہاشم آملا اور ڈیل اسٹین جیسے خطرناک کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل ہوگا جو کسی بھی وقت بازی پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جنوبی افریقہ کو اس کے میدانوں پر شکست دینا ناممکن ہے۔ اب انگلستان کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ کس نتیجے پر خود کو مطمئن پائے گا؟ بلاشبہ ان کا جواب یہی ہوگا کہ کم سے کم سیریز کا برابر ہونا۔

Facebook Comments