دورۂ نیوزی لینڈ: شکست لیکن امید کی دو کرنیں ضرور ملیں

گزشتہ ایک سال کے عرصے میں محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سری لنکا کے خلاف سیریز میں کامیابی کے سوا کھلاڑی کہیں سے فتح یاب نہیں لوٹے۔ نیوزی لینڈ کا دورہ اس پورے سلسلے کا نقطہ عروج تھا۔ گزشتہ ایک سال میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں بہترین کارکردگی دکھانے والے نیوزی لینڈ کو اس کے ملک میں جاکر ہرانا پاکستان کے لیے ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور تھا۔ نتیجہ وہی نکلا، جس کا خدشہ تھا۔ پاکستان نہ صرف ٹی ٹوئنٹی بلکہ ایک روزہ سیریز بھی ہار گیا اور اب خالی دامن کے ساتھ وطن واپسی کی راہ لے گا۔ لیکن ۔۔۔۔ اس سیریز میں شکست کے باوجود پاکستان کو امید کی دو کرنیں ضرور ملی ہیں۔ ایک نوجوان بلے باز بابر اعظم اور دوسرے محمد عامر۔

محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان میں متنازع معاملہ بنی رہی ہے۔ 2010ء میں بدنام زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پھنس کر پانچ سال کی طویل پابندی بھگتنے والے عامر کو دوبارہ ملک کی نمائندگی دی جائے یا نہیں؟ یہ گزشتہ چند ماہ میں پاکستان میں 'ملین ڈالرز کا سوال' رہا ہے۔ لیکن بورڈ نے ہمیشہ کی طرح عامر پر اعتماد کیا اور انہیں نیوزی لینڈ کے لیے دورے کے لیے منتخب کیا۔ یہاں ٹی ٹوئنٹی میں شکست اور کوئی نمایاں کارکردگی پیش نہ کرنے کے بعد عامر کو ایک روزہ میں لازماً کچھ کر دکھانا تھا۔ بارش کی وجہ سے سیریز میں تین کے بجائے دو مقابلے ہی ممکن ہو سکے جن میں عامر نے 17 اوورز پھینکے اور صرف 67 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ 13 اعشاریہ 40 کے بہترین اوسط کے ساتھ حاصل کردہ وکٹوں کے لیے ان کا اکانمی ریٹ بھی محض 3 اعشاریہ 90 رہا جو سیریز میں کسی بھی گیندباز سے کم تھا۔

Mohammad-Amir

نیوزی لینڈ کے تباہ کن بلے بازوں مارٹن گپٹل، کین ولیم سن اور دیگر کے سامنے اتنے کم رنز دینا ظاہر کرتا ہے کہ عامر میں اب بھی پرانا دم خم باقی ہے بلکہ وقار یونس کے بقول ابھی ان کا عروج پر پہنچنا باقی ہے۔ خاص طور پر انہوں نے جس طرح تیسرے ایک روزہ میں برینڈن میک کولم کو پہلی ہی گیند پر آؤٹ کیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی وکٹ کے لیے اب بھی سرگرداں رہتے ہیں اور اسے پھنسانے میں کمال رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل کی بقا کے لیے کرکٹ پاکستان میں واپس لانا ہوگی، ڈین جونز

عامر سے تو پھر بھی کارکردگی کی توقع تھی لیکن اصل کمال 21 سالہ بابر اعظم نے کر دکھایا ہے۔ گزشتہ سال زمبابوے کے خلاف ایک روزہ کیریئر کا آغاز کرنے والے بابر اب ایک منجھے ہوئے بلے باز کے روپ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ 9 ایک روزہ مقابلوں میں ان کا اوسط لگ بھگ 47 کو چھو رہا ہے اور ان چند مقابلوں میں وہ پانچ نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔ نیوزي لینڈ کے خلاف سیریز کے دو مقابلوں میں انہوں نے 72 اعشاریہ 50 کے اوسط سے سب سے زیادہ 145 رنز بنائے۔ وہ بھی 94 اعشاریہ 77 کے بہترین اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ۔ دوسرے ایک روزہ میں ان کی 83 رنز کی عمدہ اننگز پاکستان کو بالادست مقام پر پہنچا گئی۔ بس آنے والے بلے باز اس رفتار کو جاری نہ رکھ سکے اور آخر میں پاکستان کو شکست ہوئی۔ لیکن جہاں بڑے بڑے نہ چل سکے، وہاں انہوں نے ویلنگٹن میں 62 اور آکلینڈ میں 83 رنز بنا کر خود کو ثابت کیا ہے۔

بدقسمتی یہ رہی کہ بابر کو سوائے محمد حفیظ کے کسی بلے باز کا ساتھ نہ مل سکا اور محمد عامر کو کوئی گیندباز سہارا نہ دے سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو سیریز میں دو-صفر کی شکست ہوئی لیکن اس کے باوجود دونوں کی کارکردگی میں پاکستان کے لیے امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔

Facebook Comments