ایڈم ووجس کی ریکارڈ ساز اننگز

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ویلنگٹن کے میدان میں جاری ہے جہاں نیوزی لینڈ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے صرف 183 رنز پر ڈھیر ہوا۔ آخری ٹیسٹ سیریز کھیلنے والے برینڈن میک کولم اِس اننگز میں کوئی رن بھی نہ بناسکے۔ اس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم نے کرارا جواب دیا اور دوسرے دن کے اختتام تک 6 وکٹوں پر 463 رنز بنالیے، جس میں خاص بات ایڈم ووجس کے ناقابل شکست 176 اور عثمان خواجہ کی 140 رنز کی زبردست اننگز ہے۔

لیکن اِس میچ میں آسٹریلوی جواب سے بھی زیادہ اہم ایڈم ووجس کی ریکارڈ ساز اننگز ہے جس میں انہوں نے بغیر آؤٹ ہوئے 500 ٹیسٹ رنز بناکر سچن تنڈولکر کا 12 سالہ ریکارڈ توڑا اور اس سے بھی بڑھ کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے 100 کی اوسط سے 1000 رنز مکمل کیے۔

36 سالہ ووجس نے اِس میچ میں اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری اسکور بنائی جبکہ یہ ان کی تیسری لگاتار سنچری اننگز ہے۔ اِس سے ویسٹ وہ دسمبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ میں ناقابل شکست 269 اور 106 ناٹ آؤٹ رنز بنا چکے ہیں۔ جب وہ ویلنگٹن ٹیسٹ میں 123 رنز تک پہنچے تو انہیں علم ہوا کہ وہ بغیر آؤٹ ہوئے سب سے زیادہ 500 رنز بنانے والے بلے باز بھی بن گئے ہیں۔ اِس سے قبل بغیر آؤٹ ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ سچن تنڈولکر کے پاس تھا جنہوں نے جنوری تا اپریل 2004ء میں 497 رنز بنائے تھے۔ انہوں نے ناقابل شکست 241، 60، 194 اور 2 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

ووجس اور خواجہ کی ان شاندار اننگز کے نتیجے میں آسٹریلیا پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن کے اختتام پر میزبان نیوزی لینڈ سے 271 رنز آگے ہے، جبکہ اُس کی چار وکٹیں اب بھی باقی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ووجس اب بھی وکٹ پر موجود ہیں۔

اب رخ کرتے ہیں سب کا زیادہ اوسط کا۔ ووجس نے 19 ٹیسٹ میچوں میں اب تک 100.33 کی اوسط سے 1204 رنز بنائے ہیں، جس میں پانچ سنچریاں شامل ہیں جبکہ سب سے زیادہ اسکور ناقابل شکست 269 ہے۔ یہ ایک سے زيادہ ٹیسٹ کھیلنے والے کسی بھی ٹیسٹ بلے باز کا سب سے زیادہ اوسط ہے۔ اِس سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ اوسط ڈان بریڈمین کا ہے۔ عظیم بلے باز نے 80 ٹیسٹ میچوں میں 99.94 کی اوسط سے 6996 رنز بنائے تھے جس میں 29 سنچریاں شامل تھیں، جبکہ سب سے بڑا انفرادی اسکور 334 ہے۔ اب ووجس کے سامنے طویل کیریئر ہے، اور اگر وہ بریڈمین مین سے آگے رہنا چاہتے ہیں تو یقینی طور پر اُن کو اپنے کارکردگی پیش کرتے رہنا ہوگی۔ لیکن ایک ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں اب ووجس وہ مقام حاصل کر چکے ہیں جس کا کوئی بلے باز خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

اِن ریکارڈ کے علاوہ ووجس نیوزی لینڈ کے میدانوں پر کسی آسٹریلوی بلے باز کی طویل ترین انفرادی اننگز کا ریکارڈ توڑنے کے بھی قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ ریکارڈ اس وقت ڈوگ والٹرز کے پاس ہے کہ جنہوں نے 18 فروری 1977ء میں کرائسٹ چرچ میں 250 رنز بنائے تھے۔ دوسرے نمبر پر گریگ چیپل ہیں جنہوں نے یکم مارچ 1974 میں ویلنگٹن کے میدان میں ناقابل شکست 247 رنز بنائے تھے۔ اگر ووجس 250 رنز سے زیادہ کرلیتے تو ہیں تو اُن کی اننگ ایک اور ریکارڈ توڑ دے گی۔

Adam-Voges2

Facebook Comments