پلے آف مرحلے میں کون جائے گا، کراچی اور لاہور اگر مگر کا شکار

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا دوسرا مرحلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا کہ جس کے دوران شارجہ میں شاندار و یادگار مقابلے کھیلے گئے۔ اب پلے آف مرحلے سے قبل سب ٹیموں نے اپنے آخری مقابلے دبئی اسپورٹس سٹی میں کھیلنے ہیں۔ اب تک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور توقعات کے عین برخلاف پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیمیں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک نے لازمی لیگ سے باہر ہونا ہے۔ یعنی باقی مقابلے "شاہ و قلندر" کے لیے "کرو یا مرو" کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔

پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت کراچی اور لاہور دونوں کے چار، چار پوائنٹس ہیں لیکن آگے جانے کے امکانات کراچی کی نسبت لاہور کے زیادہ ہیں کیونکہ اس کے دو مقابلے ابھی باقی ہیں۔ ایک مقابلہ آج شب کوئٹہ کے خلاف ہو رہا ہے جبکہ دوسرا کل اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ ہوگا۔ اگر لاہور دونوں مقابلے جیت گیا تو پھرکراچی لازماً باہر ہوجائے گا۔ لیکن اگر دوسری طرف لاہور دونوں مقابلے ہار جائے اور کراچی اپنا بچا ہوا واحد میچ جیت جائے تو پھر "شاہانِ کراچی" پلے آف میں جائیں گے۔

آج ہونے والا کوئٹہ-لاہور معرکہ بہت اہم ہے اور بلاشبہ قلندرز کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ کوئٹہ کو زیر کریں کیونکہ انہوں نے اپنا پہلا مقابلہ بھی کوئٹہ ہی کے خلاف جیتا تھا۔ کوئٹہ کیونکہ پلے آف میں پہنچ چکا ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ گزشتہ مقابلے کی طرح وہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دے اور اگر ایسا ہوا تو لاہور کے جیتنے کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ گزشتہ مقابلے میں کوئٹہ نے ماسٹرز چیمپئنز لیگ (ایم سی ایل) سے فارغ ہو کر آنے والے کمار سنگاکارا کو کھلایا، پھر کیون پیٹرسن کو آرام دے کو اسد شفیق کو آزمایا گیا۔ گو کہ ایم سی ایل میں مین آف دی ٹورنامنٹ رہنے والے سنگا پہلے مقابلے میں صفر پر آؤٹ ہوگئے لیکن ضروری نہیں کہ آج کے مقابلے میں بھی ایسا ہی ہو۔

LQ-QG

اگر پشاور زلمی کے خلاف گزشتہ مقابلے میں کوئٹہ کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اس کا آغاز اچھا تو اچھا تھا لیکن صرف 26 رنز کے اضافے پر 8 کھلاڑیوں کا آؤٹ ہونا اس کی شکست کا سبب بنا۔ جمعہ 19 فروری کو پلے آف میں اس کا مقابلہ پشاور سے ہی ہوگا اس لیے کوئٹہ کی کوشش ہوگی کہ یہ مقابلہ جیت کر بلند حوصلوں کے ساتھ اگلے مرحلے میں جائے۔

لاہور قلندرز کے لیے پشاور کے خلاف اہم مقابلے میں کامیابی یقیناً حوصلے افزا ہوگی۔ چونکہ لاہور کے گیند بازوں پر کارکردگی کے لیے مسلسل دباؤ بڑھ رہا تھا اِس لیے پشاور کے خلاف کامیابی کی خاص بات بھی یہی تھی کہ یہ بلے بازوں سے سبب نہیں بلکہ گیند بازوں کی کارکردگی کی بدولت میسر آئی تھی۔

اب اگر آج کرس گیل چلے گئے، اس کے ساتھ بہت بڑا سا اگر لگا لیں، کیونکہ وہ اب تک فارم میں دکھائی نہیں دیے۔ پھر کیمرون ڈیلپورٹ، عمر اکمل، محمد رضوان اور ڈیوین براوو کی اننگز رفتار کو برقرار رکھ سکیں تو گیندبازوں کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ پھر سب سے اہم بات، لاہور کو سب سے زيادہ فیلڈنگ میں محنت کی ضرورت ہے۔ جتنے مواقع لاہور کے فیلڈرز نے اب تک لیگ میں ضائع کیے ہیں شاید ہی دیگر تمام ٹیموں نے مل کر گنوائے ہوں۔ ان کی کئی اہم شکستوں کی وجہ ہی دراصل کیچ چھوڑنا تھا۔ دیکھتے ہیں آج وہ اس کمزوری پر کیسے قابو پاتے ہیں۔

لاہور اہم مقابلے کے لیے اپنے دستے کا انتخاب ان کھلاڑیوں میں سے کرے گا:

اظہر علی (کپتان)، اجنتھا مینڈس، احسان عادل، حماد اعظم، ڈیوین براوو، زوہیب خان، صہیب مقصود، ضیاءالحق، ظفر گوہر، عدنان رسول، عمر اکمل، عمران بٹ، کرس گیل، کیمرون ڈیلپورٹ، کیون کوپر، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، مختار احمد اور نوید یاسین۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پاس انتخاب کے خاصے مواقع ہیں، وہ ان کھلاڑیوں میں سے حتمی الیون منتخب کریں گے:

سرفراز احمد (کپتان، وکٹ کیپر)، احمد شہزاد، اسد شفیق، اعزاز چیمہ، اکبر الرحمان، انور علی، ایلٹن چگمبورا، بسم اللہ خان، بلال آصف، ذوالفقار بابر، رمیز راجہ، سعد نسیم، عمر گل، کمار سنگاکارا، کیون پیٹرسن، گرانٹ ایلیٹ، لیوک رائٹ، محمد نبی اور محمد نواز۔

Facebook Comments