ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان و بنگلہ دیش کی ٹیموں پر حملے کا خطرہ

بھارت میں 'مودی سرکار' کی موجودگی میں انتہا پسندی کی لہر کافی پھیل گئی ہے اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیموں کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔ کلکتہ پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے حملے کا خطرہ ہے۔

بنگلہ دیش ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالا میں قیام کرے گی اور اسے اگلے ماہ شروع ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے کوالیفائنگ مرحلہ کھیلنا ہوگا۔ اگر بنگلہ دیش مرکزی مرحلے تک پہنچ گیا، جس کے کافی امکانات ہیں، تو اسے کلکتہ جانا ہوگا کہ جہاں پولیس مہمان ٹیموں کی حفاظت اور پروٹوکول کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یہاں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کو ایک ہی ہوٹل میں قیام کرنا ہے جو ہوٹل کم اور قلعہ زیادہ ہوگی۔ پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

کلکتہ کرکٹ ایسوسی ایشن نے ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم کی حفاظت کے لیے معمول کی سیکیورٹی کے ساتھ مسلح افواج سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ میچ کے دوران گراؤنڈ اور گردنواح کی بہتر حفاظت کی جا سکے۔ اس موقع پر ٹینک بھی کھڑے کیے جائیں گے۔

world-t20-2016-logo

برصغیر کے تمام ممالک میں ٹیموں کی حفاظت سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے ۔یہی وجہ ہے اسی سال کے آغاز میں آسٹریلیا نے اپنی انڈر-19 ٹیم کو ورلڈکپ کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش جانے سے روک دیا تھا۔ ان حالات کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کی کرکٹ نے اٹھایا ہے۔ 2009ء میں جب سے سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا ہے، کوئی ٹیم پاکستان جانے کو تیار نہیں ہے اور اس دوران پاکستان کو سوائے زمبابوے کے کسی کی میزبانی نصیب نہیں ہو سکی۔

پاک-بھارت مقابلے کے حوالے سے شملہ میں اسی ہفتے احتجاج ہو بھی چکا ہے۔ سابق بھارتی فوجیوں کی ایک تنظیم نے اپنے احتجاج میں شملہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہداء کے خاندانوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میچ کے انعقاد پر نظر ثانی کی جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان پہلے ہی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے حوالے سے اپنے خدشات ظاہر کر چکا ہے اور یہ تک کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مقابلے کسی تیسرے مقام پر منعقد کیے جائیں۔ اس مطالبے پر عملدرآمد تو مشکل ہے لیکن 8 مارچ سے 3 اپریل تک بھارت میں ہونے والا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میزبان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

Facebook Comments