کہانی پی ایس ایل کی، ایک نئے دور کا آغاز

میدان ویران ہوں، ڈومیسٹک کرکٹ حکام بالا اور عوام دونوں کی عدم توجہی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہو اور اپنی اہمیت و حیثیت کھودے، اس مشکل ترین وقت میں کچھ ایسا ہو جائے جو کرکٹ سے عوامی لگاؤ کو ایک مرتبہ پھر جگا دے، بلکہ اپنے عروج پر پہنچا دے، تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قدم کتنا اہم ہوگا؟ پاکستان سپر لیگ اسی لیے ہمارے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی کامیابی پاکستان کرکٹ کے روشن مستقبل کی ضمانت اور ناکامی اس کی تباہی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

2009ء میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد جب غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تو وطن عزیز کے میدان ویران ہوگئے۔ عوام کے پاس کرکٹ سے محظوظ ہونے کا محض ایک ہی راستہ بچا کہ وہ ڈومیسٹک مقابلے دیکھیں لیکن کم تر معیار کی کرکٹ سے لوگوں کا دل خراب ہوگیا۔ اس مایوسی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بہت کوششیں بھی کیں لیکن ڈومیسٹک میں ایک حد سے زیادہ کشش پیدا نہ کی جا سکی۔ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں تو تماشائیوں نے پھر بھی میدانوں کا رخ کیا لیکن اس کے علاوہ دیگر مقابلوں میں تو "کوئی ویرانی سی ویرانی ہے"۔

ان چھ، سات سالوں میں پاکستانی شائقین قومی ہیروز کو اپنے میدانوں میں دیکھنے کے لیے بے تاب رہے۔ جب سرحد کے اُس پار انڈین پریمیئر لیگ اپنے عروج پر تھی۔ پھر آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ، ویسٹ انڈیز میں کیریبیئن پریمیئر لیگ یہاں تک کہ بنگلہ دیش میں بھی لیگ کا آغاز ہوا لیکن پاکستان اس معاملے میں بھی پیچھے ہی رہا۔ متعدد بار اعلانات کے باوجود پاکستان سپر لیگ تاخیر کا شکار ہوتی چلی گئی اور جب سب امیدیں دم توڑ چکیں، تب ایک کے بعد ایک معاملات طے ہوتے چلے گئے۔ مصمم ارادہ، فرنچائز کی فروخت، ٹیموں کی بولیاں، کھلاڑیوں کی خریداری اور پھر کئی بڑے پلیئرز کی آمد اور ایک شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ پی ایس ایل کے پہلے سیزن کا آغاز۔ یہ سب ایک خواب سا لگتا تھا، جو شرمندۂ تعبیر ہوا۔ کرس گیل، کیون پیٹرسن، کمار سنگاکارا اور شین واٹسن جیسے کھلاڑی، سر ویوین رچرڈز جیسے عظیم "گرو"، وسیم اکرم جیسی شخصیت کی وابستگی، یہ سب پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن کی کہانی ہے، یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

Shahid-Afridi

ابتدائی چند ایک مقابلوں میں ہی بے یقینی کی دھند چھٹ گئی۔ گو کہ حتمی مرحلہ اب شروع ہوا ہے لیکن پی ایس ایل اس سے پہلے ہی 'سپر ہٹ' ہو چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ اب سے دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک پی ایس ایل سے پہلے، دوسری اس کے بعد۔ پہلے کہ جب کوئی نئے کھلاڑیوں کو اہمیت نہیں دیتا تھا، وہ غربت کی چکی پیستے تھے، انہیں کوئی پہچانتا نہیں تھا اور اب دوسرا دور ہے، جو سنہری اور تابناک ہے۔ اب چھپے ستارے پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہے ہیں۔ انہیں بڑا پلیٹ فارم میسر آیا ہے اور پیسہ بھی جن کی وجہ سے وہ پوری توجہ کھیل پر رکھ سکتے ہیں۔ یہیں سے محمد نواز اور محمد اصغر سامنے آ رہے ہیں، رمّان رئیس اور بسم اللہ خان بھی۔ اگر پی ایس ایل نہ ہوتی تو یہ ڈومیسٹک میں یوں ہی کھیلتے رہتے اور کوئی "خوش نصیب" ہوتا تو اسے سعید اجمل اور محمد عرفان کی طرح جوانی گزارنے کے بعد موقع مل جاتا لیکن شاید کچھ اتنے خوش قسمت بھی نہ ہوتے۔ نہ صرف نئے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ انہیں بھی خود کو ثابت کرنے کا موقع مل رہا ہے جو خراب کارکردگی کی وجہ سے قومی ٹیم سے باہر ہیں۔ جیسا کہ سعید اجمل، جنید خان اور عمر گل۔

بلاشبہ پی ایس ایل میں آئی پی ایل، بی بی ایل اور سی پی ایل کے مقابلے میں کچھ منفرد نہیں، سوائے اس کے کہ اس میں غیر ضروری "رقاصائیں" موجود نہیں ہیں۔ پھر شہروں کی بنیاد پر ٹیموں کا خیال بھی انوکھا نہیں بلکہ ڈومیسٹک میں اس بنیاد پر کافی عرصے سے ٹی ٹوئنٹی مقابلے ہو رہے ہیں۔ لیکن جتنا فائدہ پاکستان کی ڈومیسٹک اور قومی کرکٹ کو پی ایس ایل سے پہنچنے والا ہے، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

Tamim-Iqbal

بلاشبہ پہلے سیزن میں خامیاں، کمیاں و کوتاہیاں موجود ہے، ایسا ممکن ہی نہیں کہ مکمل طور پر خامی سے پاک لیگ کروائی جا سکے، خاص طور پر وہ بھی پہلے سیزن میں، لیکن ان تمام کمیوں کے باوجود یہ ایک بھرپور کامیابی ہے۔ خرابیاں تو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائیں گی لیکن جو پہلا تاثر ہے وہ کبھی دوبارہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ایس ایل نے پہلا میدان تو مار لیا ہے۔ دبئی کے خالی میدان، پے در پے مقابلے اور ٹیموں کی کم تعداد جیسے اور مزید بہتر غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سے بھی اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ویسے تو کیا ہی خوب ہوتا کہ پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان میں ہوتا، لیکن جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے، اس وقت تک متحدہ عرب امارات کا انتخاب بھی کچھ برا نہیں ہے۔

ایک وقت تھا پاکستان کرکٹ کے علاوہ ہاکی اور اسکوائش کے میدان میں بھی چھایا ہوا تھا، لیکن تبدیل ہوتی صورت حال میں ہم خود کو نہ بدل سکے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہاکی اور اسکوائش میں آج ہمارا نام تک نہیں۔ کرکٹ میں بھی حالات بتدریج خراب ہوتی جا رہی ہے اور اس کی ایک مثال عالمی درجہ بندی ہے۔ ایک روزہ میں ہم آٹھویں نمبر پر اور ٹی ٹوئنٹی میں ساتویں درجے پر ہیں۔ اس پس منظر کے ساتھ پی ایس ایل کا انعقاد بالکل بروقت ہے۔ اب ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پہلے سیزن کی کمی کوتاہی کو اگلے سیزن میں مزید بہتر تیاری کا سامان سمجھا جائے۔

Facebook Comments