جوہانسبرگ، جہاں کوئی ہدف مشکل نہیں

سن 2006ء اور مارچ کے یہی ایام تھے کہ جس کے بارہویں دن جنوبی افریقہ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔ وینڈررز اسٹیڈیم پر جب آسٹریلیا نے ایک روزہ مقابلے میں اس کے خلاف 434 رنز بنا ڈالے تھے تو گویا تاریخ کو بدل کر رکھ دیا تھا، یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ تاریخ صرف چند گھنٹوں کے لیے رقم ہوئی ہے۔ جنوبی افریقہ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے آخری اوور میں جا کر 435 رنز کا ہدف حاصل کرلیا اور یوں یہ مقابلہ "تاریخ کا بہترین ایک روزہ" قرار پایا۔ آج بھی یہ کسی بھی ایک روزہ میں کامیابی سے حاصل کیا گیا سب سے بڑا ہدف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وینڈررز ایک روزہ کی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بھی کامیابی سے حاصل کیے گئے سب سے بڑے ہدف کا 'عینی شاہد' رہا ہے۔

گزشتہ روز جب آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کا ایک شاہکار مقابلہ یہاں کھیلا گیا کہ جس میں آسٹریلیا نے پورا زور لگا کر آخری گیند پر جاکر 205 رنز کا ہدف حاصل کیا تو کئی لوگوں کے ذہنوں میں گزشتہ سال کا جنوبی افریقہ-ویسٹ انڈیز مقابلہ گھوم گیا ہوگا، جو اسی میدان پر کھیلا گیا تھا۔ وہاں بھی فف دو پلیسی نے ایک شاندار اننگز کھیلی تھی۔ صرف 56 گیندوں پر قائدانہ 119 رنز جنوبی افریقہ کو 231 رنز تک لے گئے۔ لیکن ویسٹ انڈیز نے کرس گیل کے طوفانی 41 گیندوں پر 90 اور مارلون سیموئلز کے 39 گیندوں پر 60 رنز کی بدولت جنوبی افریقہ کے باؤلرز کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔ جب 14 ویں اوور میں کرس گیل کی وکٹ گری تو ویسٹ انڈیز کا اسکور 171 رنز کو چھو رہا تھا۔ پے در پے وکٹیں گرنے سے ان کے لیے ہدف کا حصول آسان تو نہیں رہا لیکن ڈیرن سیمی کا 'حتمی وار' کافی ثابت ہوا کہ جنہوں نے 7 گیندوں پر 20 رنز بنائے اور آخری اوور کی دوسری گیند پر ویسٹ انڈیز ان کے شاندار چھکے کے ذریعے ریکارڈ ہدف تک جا پہنچا۔

یہی نہیں ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں کامیابی سے عبور کیے گئے سرفہرست چار میں سے تین ہدف وینڈررز یعنی "بُل رنگ" ہی میں حاصل کیے گئے ہیں۔ ستمبر 2007ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے افتتاحی مقابلے میں جنوبی افریقہ نے یہاں ویسٹ انڈیز کے خلاف 206 رنز کا ہدف صرف دو وکٹوں کے نقصان پر 18 ویں اوور ہی میں حاصل کرلیا تھا جبکہ آسٹریلیا نے گزشتہ روز 205 رنز بنا کر اس فہرست میں ایک مرتبہ پھر جوہانسبرگ کا نام لکھوا دیا ہے۔

Darren-Sammy

کامیابی سے حاصل کیے گئے ٹی ٹوئنٹی اہداف

کامیاب ٹیم ہدف بمقابلہ بمقام بتاریخ
ویسٹ انڈیز 232 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ 11 جنوری 2015ء
بھارت 207 سری لنکا موہالی 12 دسمبر 2009ء
جنوبی افریقہ 206 ویسٹ انڈیز جوہانسبرگ 11 ستمبر 2007ء
آسٹریلیا 205 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ 6 مارچ 2016ء
بھارت 202 آسٹریلیا راجکوٹ 10 اکتوبر 2013ء

Facebook Comments