پاکستان اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، "دل نا امید تو نہیں"

پاکستان کا دستہ بالآخر کلکتہ پہنچ چکا ہے اور ٹوٹی پھوٹی سہی لیکن ملک و قوم کی امیدیں تو وابستہ ہی ہیں۔ ابھی ایشیا کپ کے زخم تازہ ہیں، مداحوں میں سخت مایوسی پھیلی ہوئی ہے اور حالات سازگار نہیں دکھائی دیتے۔ ایشیا کپ میں ناکامی، عوام اور مبصرین کی کڑی تنقید اور پھر بھارتی انتہا پسندوں کی جانب سے پاکستانی ٹیم کی آمد کی مخالفت کے بعد پاکستان کا دستہ سخت دباؤ میں ایڈن گارڈنز میں اپنا پہلا تربیتی سیشن مکمل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

ان مایوس کن حالات میں اگر کوئی کھلاڑیوں میں دوبارہ جوش و جذبہ بھر سکتا ہے، ان میں جیت کی لگن پیدا کر سکتا ہے، کوئی نئی امنگ جگا سکتا ہے تو وہ صرف کپتان شاہد آفریدی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہد آفریدی کا کیریئر اپنے اختتام پر ہے لیکن وہی تھے کہ جن کے بل بوتے پر پاکستان نے 2009ء میں انگلستان میں ہونے والا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا۔

پاکستان کے اس وقت معیاری بلکہ بہترین گیندباز موجود ہیں، جو دنیا کی کسی بھی ٹیم کو مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں لیکن بلے بازی بہت کمزور ہے اور اس کی بہتر کارکردگی کے بغیر 'گرین شرٹس' منزل کو نہیں پا سکتے۔

بھارت میں کھیلنے کی وجہ سے پاکستان دہرے تناؤ کا شکار ہے۔ ایک تو گزشتہ چند ماہ سے مسلسل سفر اور شکست۔ پہلے دورۂ نیوزی لینڈ میں ہارے، پھر مختصر لیکن بھرپور پاکستان سپر لیگ کھیلے اور اس کے بعد ایشیا کپ میں شکست نے تھکاوٹ کو بڑھا دیا۔ بھارت میں کھلاڑیوں کی حفاظت پر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات نے جسمانی تھکاوٹ کے بعد ذہنی اکتاہٹ بھی دے دی اور یوں پاکستان اپنا پہلا وارم اپ مقابلہ بھی ضائع کر بیٹھا۔ اس لیے اس وقت سب سے زیادہ ضروری اعصابی لحاظ سے اطمینان حاصل کرنا ہے۔

محدود طرز کی کرکٹ میں پاکستان کا مضبوط پہلو ہمیشہ گیندباز رہا ہے۔ محمد عرفان، محمدعامر، وہاب ریاض اور محمد سمیع کی صورت میں چار بہترین تیز باؤلرز موجود ہیں جو مضبوط ترین بیٹنگ لائن کو پچھاڑنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاہد آفریدی ٹی ٹوئنٹی میں ایک خطرناک اسپن باؤلر ہیں۔ پاکستان کا کمزور پہلو ٹاپ آرڈر کی مسلسل ناکامی ہے۔ پاکستان سپر لیگ کی واحد سنچری بنانے والے شرجیل خان اور ڈومیسٹک میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بعد منتخب ہونے والے خرم منظور دونوں ایشیا کپ میں مکمل طور پر ناکام ہوئے۔ خرم منظور کی جگہ احمد شہزاد کو شامل تو کردیا گیا ہے لیکن انہیں اب ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس کے اہل بھی ہیں۔ محمد حفیظ کا کارکردگی پیش کرنا بہت ضروری ہے اور اگر آخری اوورز میں عمر اکمل بھی اپنی صلاحیتوں سے انصاف کرنے میں کامیاب ہوئے تو پاکستان بھارت سمیت تمام حریفوں کے لیے سخت مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور کے اوسان پھر خطا ہوگئے، کوئٹہ فائنل میں

بلاشبہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سب کی نظریں شاہد آفریدی اور محمد عامر پر ہوں گی۔ ایشیا کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد سے آفریدی پر سخت تنقید جاری ہے۔ عوام کی جانب سے قیادت سے ہٹانے کا مطالبہ ہٹا بھی دیں تو ان پر خاصا دباؤ ہوگیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں قیادت پر برقرار رکھتے ہوئے کچھ حوصلہ تو دیا ہے لیکن "لالا" اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں کس صورتحال کا سامنا ہے۔ البتہ شاہد آفریدی نے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ دے کے بورڈ کے ساتھ معاہدے کا پاس ہیں کیا، جس پر چند حلقے سے خوش نہیں۔ بہرحال، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی شاہد آفریدی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

دوسرے کھلاڑی محمد عامر ہیں جو پانچ سال کی پابندی کے بعد اپناپہلا 'میگا ایونٹ' کھیلیں گے۔ محمد عامر کی واپسی کے معاملے پر بھی خاصا ہنگامہ ہوا تھا لیکن انہوں نے اپنی کارکردگی سے ناقدین کے منہ بند کردیے ہیں۔ اب سب منتظر ہیں کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ روہیت شرما کی جانب سے "معمولی گیندباز" قرار دیے جانے کے بعد تو طبل جنگ ویسے ہی بج چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے منتخب کیا گیا پاکستانی دستہ کاغذ پر تو بہت متوازن اور باصلاحیت دکھائی دیتا ہے لیکن میدان عمل میں کیا کارکردگی دکھاتا ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ آسٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ اور ممکنہ طور پربنگلہ دیش کے ساتھ "گروپ آف ڈیتھ" پاکستان کے لیے ہرگز آسان نہیں ہوگا۔ ضرورت صرف بلے بازوں کے ساتھ کی ہے، اگر انہوں نے باؤلرز کو پورا سہارا دیا تو پاکستان کو کم ا زکم سیمی فائنل کھیلنے سے تو کوئی نہیں روک پائے گا۔ ہاں! اگر وہ ایشیا کپ کی طرح یہاں بھی دھوکہ دے گئے تو گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی طرح جلد واپسی کی راہ لینا پڑے گی۔

Facebook Comments