بھارت اب نئے کوچ کی تلاش میں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء میں بھارت کی مہم سیمی فائنل میں مایوس کن انداز میں اختتام کو پہنچی۔ اس کے ساتھ ہی روی شاستری کے ساتھ معاہدہ بھی اختتام کو پہنچا اور اب بھارت نئےکوچ کی تلاش میں ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر کے مطابق روی شاستری کے معاہدے کی میعاد ختم ہوچکی ہے اور اب وہ بطور ڈائریکٹر مزید خدمات انجام نہیں دے سکیں گے، لیکن اگر بورڈ کی مشاورتی کمیٹینے مزید کام کی اجازت دی تو دوبارہ اُن کے ساتھ معاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

سنیچر کو اپنے بیان میں انوراگ ٹھاکر کا کہنا تھا کہ مستقل کوچ نہ ہونے کے سبب بھارتی بورڈ نے کمیٹی کی تجویز پر روی شاستری کو بطور ڈائریکٹر نامزد کیا تھا، اور اس تقرری کی میعاد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے خاتمے کے ساتھ مکمل ہوگئی ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے جون 2015ء میں سچن تنڈولکر، سارو گانگلی اور وی وی ایس لکشمن پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے بعد بورڈ کے اہم ممعاملات میں رائے دینے کا اختیار تھا۔ اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد اس کمیٹی کا اجلاس ممکن ہے جس میں طے کیا جائے گا کہ آیا روی شاستری کو بطور ڈائریکٹر مزید کام کرنے دیا جائے یا کسی نئے کل وقتی کوچ کی تلاش کی جائے۔

انوراگ ٹھاکر کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ کی تو خواہش یہ ہے کہ ٹیم کے ساتھ ایک کل وقتی کوچ ہونا چاہیے لیکن اس کا فیصلہ کمیٹی کرے گی۔ یہ بات تو طے ہے کہ یا تو ٹیم کے ساتھ ڈائریکٹر ہوگا یا مکمل کوچ، دونوں ایک ساتھ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے کوچ کے لیے ناموں کی فہرست طلب کی ہے اور 3 اپریل کو یہ نام فراہم کردیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر اور سیکریٹری عہدے سے برطرف

واضح رہے کہ روی شاستری نے 2014ء سے بطور ڈائریکٹر ذمہ داریاں سر انجام دے ہرے ہیں اور ان کا دورہ بھارتی کرکٹ کے لیے مجموعی طور پر بہت اچھا رہا۔ عالمی کپ 2015ء اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء میں ٹیم سیمی فائنل تک پہنچی جبکہ درجہ بندی میں بھی تینوں طرز کی کرکٹ میں نمبر ایک مقام حاصل کیا۔

ویسے ابھی آسٹریلیا کے اسپن گیندباز شین وارن نے ایک سوال پر کہا ہے کہ بھارت کی کوچنگ کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تو وہ ضرور سوچیں گے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ در پردہ معاملات چل رہے ہیں اور کافی امکان ہے کہ روی شاستری کی چھٹی ہو جائے۔

Facebook Comments