یاسر کو لندن پسند ہے

لارڈز میں کیریئر کی بہترین کارکردگی کے بعد ایسا لگتا تھا کہ یاسر شاہ کو "نظر" لگ گئی۔ اب اسے انگلستان کا بہترین ہوم ورک کہہ لیں یا یاسر شاہ کی بدقسمتی، پاکستان کو مانچسٹر سے لے کر برمنگھم تک انہیں جدوجہد کرتا ہی دیکھتا رہا۔ ایسا لگتا تھا کہ لندن کی فضاؤں سے باہر نکلتے ہی یاسر کا "جادو" ختم ہوگیا ہے اور ایشیا سے باہر پہلی سیریز ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوگی۔

لارڈز میں 141 رنز دے کر 10 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ یاسر شاہ متحدہ عرب امارات کے بعد انگلستان میں بھی قہر ڈھاتے رہیں گے۔ لیکن دوسرے ٹیسٹ میں شاہ صاحب نے 266 رنز دیے اور صرف ایک وکٹ سمیٹی۔ پاکستان کو 330 رنز کی بہت بری شکست کا سامنا کرنا پڑا جس میں صرف پہلی اننگز میں ہی یاسر شاہ نے 213 رنز دیے۔

یہ صورت حال تیسرے ٹیسٹ میں بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ یہاں پاکستان کی شکست کا بنیادی سبب آخری دن بلے بازوں کی بدترین ناکامی تھا، لیکن انگلستان کو مقابلے میں واپسی کا اصل موقع باؤلنگ نے دیا۔ پاکستان نے انگلستان پر پہلی اننگز میں 103 رنز کی برتری حاصل کی لیکن جب معاملہ گیند بازوں کے ہاتھ میں آیا تو یاسر شاہ سمیت تمام ہی ناکام دکھائی دیے۔ یاسر نے 172 رنز دیے اور صرف دو وکٹیں حاصل کیں یعنی میچ میں 236 رنز دے کر صرف تین وکٹیں۔

اس ٹیسٹ میں پاکستان کی 141 رنز کی مایوس کن شکست کے ساتھ نہ صرف پاکستان کی سیریز جیتنے کی آرزو ختم ہوگئی بلکہ یاسر شاہ کا سب سے کم مقابلوں میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا۔

پھر چوتھے و آخری ٹیسٹ کے لیے ایک مرتبہ پھر پاکستان لندن پہنچا۔ اس مرتبہ لارڈز سے دور دریائے ٹیمز کے اُس پار اوول کا میدان میزبان تھا۔ وہ میدان کہ جسے انگلستان میں پاکستان کا "گھر" کہا جا سکتا ہے۔ 2006ء کے بدنام زمانہ تنازع کو نکال دیں تو پاکستان نے یہاں دہائیوں میں کبھی شکست نہیں کھائی۔ بہرحال، اوول ٹیسٹ نہ صرف پاکستان بلکہ یاسر شاہ کے پاس بھی آخری موقع تھا جہاں انتہائی اہم تیسرے و چوتھے دن یاسر نے جیسی کارکردگی پیش کی، اسے دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہیں لندن کی ہوا راس آ گئی تھی۔

یونس خان کی ڈبل سنچری اور پہلی اننگز میں 214 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو باؤلنگ میں کسی کارنامے کی ضرورت تھی اور یہ کام کر دکھایا یاسر نے۔ انہوں نے ایلکس ہیلز،جیمز ونس، جو روٹ، معین علی اور اسٹورٹ براڈ کی قیمتی وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔

29 اوورز میں 71 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کرکے یاسر نے سیریز میں اپنی وکٹوں کی تعداد کو 19 تک پہنچا لیا۔ یوں وہ 16 ٹیسٹ میچز میں 96 شکار کر چکے ہیں جو ریکارڈ یافتہ جارج لومین کے بعد کسی بھی گیندباز کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

بلاشبہ یاسر شاہ کا سیریز اوسط اتنا عمدہ نہیں ہے، 40.73، جس کی وجہ دراصل درمیانی دو ٹیسٹ میچز میں بھیانک کارکردگی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے اور آخری ٹیسٹ میں فیصلہ کن مراحل پر پاکستان کو حاوی مقام تک پہنچانا یاسر شاہ کا ایسا کام ہے جو کسی طرح متحدہ عرب امارات میں دکھائے گئے کارناموں سے کم نہیں۔

Yasir-Shah2

Facebook Comments