بھارت سب پر بھاری، اہم منصوبہ منطقی انجام کو پہنچ گیا

ٹیسٹ کرکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا منصوبہ بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ زمبابوے، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بالخصوص بھارت نے اس کی کھل کر مخالفت کی، جس کے بعد اسے ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے روح رواں آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن تھے جن کا کہنا کہنا تھا کہ ٹیسٹ درجہ بندی کی سات نمایاں ٹیموں پر مشتمل پہلا ڈویژن ہوگا جبکہ باقی تین ٹیموں کے ساتھ مزید دو نئے ممالک کو شامل کرکے دوسرا ڈویژن تشکیل دیا جائے گا۔ یہ دونوں ڈویژن سال بھر کے دوران کھیلتے رہیں۔ جس کے بعد سرفہرست دو ٹیمیں لارڈز میں فائنل کھیلیں گی جبکہ دونوں ڈویژنز کی ٹیموں کے درمیان ترقی و تنزلی بھی ہوتی رہے۔ اس کا بنیادی مقصد ٹیسٹ فارمیٹ کو دلچسپ بنانا تھا تاکہ اس کی اہمیت بحال ہو سکے۔

انگلستان، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور پاکستان کی جانب سے حمایت کے باوجود بھارت کے دباؤ پر اس منصوبے کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا۔ بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر کا کہنا تھا کہ ہم ٹیسٹ کرکٹ میں جدت کے قائل ہیں لیکن کسی ایسے نظام کے نہیں جس سے چھوٹی ٹیموں کی حوصلہ شکنی ہو۔

اس معاملے کے بعد ڈیو رچرڈسن کی جانب سے ایک مبہم سا بیان جاری ہوا ہے، جس میں انہوں نے اس تجویز کا ذکر کیے بغیر کہا ہے کہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ تمام 10 مکمل اراکین تینوں طرز کے کھیل میں بہتری لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف شعبوں میں ہمارا اتفاق رائے ہے۔ اس میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ڈھانچے کی تفصیلات اور ٹیسٹ کرکٹ شیڈول کے حوالے سے اصول مرتب کرنا شامل ہے جس میں ایک ٹیسٹ چیمپئن کا خیال بھی شامل ہے جو ہر دو سال بعد ایک مقابلے پر مشتمل ہو اور ساتھ ہی ٹیسٹ میں دیگر ممالک کو شامل کرنے کا خیال بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پھٹیچر!!

اس پورے معاملے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ چاہے سارے کرکٹ ممالک ایک طرف ہوں لیکن بھارت دوسری جانب ہو تو اس کی بات کو وزن دیا جائے گا۔ چاہے اس کے ساتھ بنگلہ دیش، زمبابوے اور سری لنکا جیسے بے اثر کرکٹ بورڈ ہی کیوں نہ ہوں۔

dave-richardson

Facebook Comments