عالمی درجہ بندی: بھارت اب بھی سرفہرست کیوں نہیں؟

بھارت نے نیوزی لینڈ کو کلکتہ میں شکست دے کر سیریز میں دو-صفر کی فاتحانہ برتری حاصل کرلی ہے اور یوں ٹیسٹ کی بین الاقوامی درجہ بندی میں پاکستان کو پچھاڑنے کے لیے درکار پوائنٹس حاصل کرکے سرفہرست مقام حاصل کرلیا ہے۔ لیکن بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی ویب سائٹ پر اب بھی پاکستان ہی نمبر ایک نظر آ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے کرکٹ شائقین پریشان ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ دراصل ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی ہر سیریز کے بعد تازہ کی جاتی ہے یعنی بھارت اور نیوزی لینڈ کے دوسرے سیریز مکمل ہوگی تبھی درجہ بندی میں تبدیلی نظر آئے گی۔

بھارت سیریز سے قبل پاکستان سے ایک پوائنٹ پیچھے تھا اور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے انہیں دو ٹیسٹ جیتنے کی ضرورت تھی جو اس نے کانپور اور کلکتہ میں فتوحات کے ذریعے حاصل کرلیں۔ اب وہ پاکستان کو پیچھے چھوڑنے کے لیے کافی پوائنٹس حاصل کر چکے ہیں البتہ اس کا باضابطہ اعلان نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے اختتام پر ہوگا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت تیسرا ٹیسٹ ہار گیا تو کیا ہوگا؟ یعنی سیریز اگر دو-ایک کے نتیجے کے ساتھ مکمل ہو تو؟ تب بھارت کے پوائنٹس کی تعداد 111 ہو جائے گی یعنی پاکستان کے برابر، لیکن اعشاریہ کے فرق سے اس سے پیچھے۔ جبکہ ڈرا ہونے کے نتیجے میں پوائنٹس 113 ہوں گے یعنی پاکستان سے دو قدم آگے۔ اگر بھارت تیسرا ٹیسٹ بھی جیت کر کلین سویپ کرتا ہے تو یہ 115 تک پہنچ جائیں گے۔ پاکستان کو پھر اپنا مقام محفوظ کرنے کے لیے ویسٹ انڈیز کو تین-صفر سے ہرانا ہوگا، اس سے کم کسی بھی فرق سے کامیاب بھارت کو نمبر ایک پر مضبوط بنا دے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  یونس خان ٹیسٹ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر

اگر بھارت اندور میں ہونے والا تیسرا ٹیسٹ ہارتا ہے تو پاکستان عارضی طور پر نمبر ایک برقرار رہے گا لیکن پھر اسے ویسٹ انڈیز کو تین-صفر سے ہرانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو بھارت کم از کم اگلے مہینے تک نمبر ایک بن جائے گا۔

Facebook Comments