بدترین شکست، نیوزی لینڈ کے لیے لمحہ فکریہ

اندور میں بھارت نے 557 رنز کا پہاڑ کھڑا کرکے اپنی برتری ثابت کی اور نیوزی لینڈ کو اعصابی طور پر اتنا شل کردیا ہے کہ اسے آئندہ مقابلوں کے لیے نئی سوچ اپنانی پڑے گی۔ پہلی اننگز میں صرف 299 رنز اور دوسری میں 474 رنز کے تعاقب میں روی چندر آشون کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنا، بلیک کیپس ایسے گھائل ہوئے کہ صرف 153 رنز پر ڈھیر ہوگئے۔ بھارت نے 321 رنز کے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی اور سیریز، ورلڈ نمبر ایک مقام اور ٹیسٹ چیمپیئن شپ ٹرافی سب کچھ جیت لیا۔ ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی اہلیت پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اس کامیابی میں جہاں کئی عوامل بھارت کے حق میں رہے وہیں روی چندر آشون کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ایک کے بعد ایک بلے باز ان کے ہتھے چڑھتا رہا اور اننگز تمام ہوئی صرف 153 رنز پر۔ نیوزی لینڈ کے کپتان نے اپنی مایوس کن کارکردگی کا اعتراف کیا اور مخالف کی صلاحیت کو خوب سراہا۔

مہمان بلے بازوں کی بھارتی اسپنرز کے سامنے بے بسی پوری سیریز میں نمایاں تھی، جس کا بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ہمہ وقت اپنا دباؤ برقرار رکھا۔ پہلی اننگز میں 6 اور دوسری میں 7 وکٹیں لینے والے آشون ہی گویا نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن کے لیے کافی تھے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے تماشائیوں کی بھرپور داد سمیٹی وہیں دنیا کے نمبر ایک باؤلر بھی بن گئے۔

بھارت کا یہ 500 واں ٹیسٹ بلے بازوں کی شاندار کارکردگی اور گیند بازوں کی محنت کا مظہر تھا۔ ایک طرف ویراٹ کوہلی کی قائدانہ ڈبل سنچری اننگز، اجنکیا راہانے کے بہترین ساتھ اور دوسری اننگز میں چیتشور پجارا کی سنچری تھیں تو دوسری جانب آشون اور رویندر جدیجا کی تباہ کن باؤلنگ۔

یہ بھی پڑھیں:  آشون کا دن، انگلستان کی حالت خراب

ٹیسٹ سیریز میں تین-صفر سے عبرتناک شکست نیوزی لینڈ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے خلاف سیریز سے پہلے جو اس وقت دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیموں میں سے ایک ہے۔ اس لیے نیوزی لینڈ کو اس شکست کو بھلا کر جلد از جلد نئی حکمت عملی طے کرنا ہوگی تاکہ ٹیم جب 17 نومبر کو کرائسٹ چرچ میں کھیلنے کے لیے آئے تو اس کے پاس پاکستان کو زیر کرنے کا سامان موجود ہو۔

Matt-Henry

Facebook Comments