یاسر شاہ اور آشون میرا ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں، مرلی دھرن

کرکٹ میں کہا جاتا ہے کہ "ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہی ہوتے ہیں" اور اسی کو ذہن میں رکھ کر ہر کھلاڑی اپنے متعلقہ شعبے کے بڑے ریکارڈز توڑنے کا ہدف رکھتا ہے، مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اس مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جیسے بلے بازوں میں سچن تنڈولکر کہ جنہوں نے تمام طرز کی کرکٹ میں رنز کے ایسے پہاڑ کھڑے کردیے ہیں مستقبل قریب میں کوئی ان کو سر کرتا نہیں دکھائی دیتا۔ اسی طرح گیند بازوں میں سری لنکا کے مرلی دھرن ایک مثالی کردار ہیں جنہوں نے اپنے 18 سالہ کیریئر میں 800 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن جب مرلی سے پوچھا گیا کہ موجودہ گیند بازوں میں کون ایسا ہے جو آپ کے ریکارڈ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے تو ان کا جواب تھا، روی چندر آشون یا یاسر شاہ!

43 سالہ مرلی نے اس وقت دنیا کے دو بہترین اسپنر سمجھے جانے والے پاکستانی و بھارتی باؤلرز کی صلاحیتوں کا اعتراف تو کیا لیکن کہا کہ یہ تبھی ممکن ہے جب ان کی فٹنس کا معیار بہت اعلیٰ ہو۔ بڑا ریکارڈ توڑنے کے لیے طویل کیریئر کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور اس کا تمام تر انحصار فٹس پر ہے۔

بھارتی اسپنر آشون کے بارے میں بات کرتے ہوئے مرلی نے کہا کہ وہ اس وقت تک کوئی بڑا سنگ میل عبور نہیں کر سکتے، جب تک کہ برصغیر سے باہر شاندار کارکردگی پیش نہیں کریں گے۔ فی الوقت آشون کی ہوم گراؤنڈ اور بیرون ملک کارکردگی میں توازن نہیں ہے بلکہ ایک واضح فرق موجود ہے جو اچھی علامت نہیں۔ لیکن مثبت چیز یہ ہے کہ ان میں یہ فرق ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر کسی بھی اچھے کھلاڑی کو اپنی صلاحیتوں اور کمیوں کا ادراک ہو جائے اور وہ اس کو دور کرنے کے جذبہ بھی رکھتا وہ تو اس کو عروج کی طرف جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آشون کا اعتماد بلند ہے، وہ آل راؤنڈر کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں اور اگر وہ کسی مقابلے میں گیند بازی میں کچھ نہ دکھا سکے تو امید ہے کہ بلے بازی کی صلاحیت سے ٹیم کو بچا سکتے ہیں۔ یہ اضافی صلاحیت ان کے کیریئر کے لیے بہت فائدہ مند ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  ”صرف ٹیم نہیں، کھلاڑی بھی ترقی کرگئے“

Facebook Comments