جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا

پاک-ویسٹ انڈیز ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں توقع سے کم لیکن مقابلے کے لیے کافی 446 رنز کا مجموعہ اکٹھا کیا ہے جس کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی محتاط بلے بازی جاری ہے جسے دن کے آخری لمحات میں پے در پے کچھ وکٹیں گرنے سے خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اب مصباح الیون اپنی فتوحات کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کچھ بہتر مقام پر دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان نے دبئی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 56 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ جاری دوسرے ٹیسٹ سے کافی مختلف مقابلہ تھا، جس میں سب سے خاص بات اس کا ڈے اینڈ نائٹ ہونا تھا۔ اس مقابلے میں سرخ کے بجائے گلابی گیند استعمال کی گئی لیکن یہ مقابلہ روایتی سرخ گیند سے ہی کھیلا جا رہا ہے۔ دونوں مقابلوں میں وقت، مقام اور گیند کا فرق ضرور ہے لیکن ایک چیز مشترک ضرور ہے، وہ ہے تماشائیوں کی عدم دلچسپی۔

خیر، دوسرا ٹیسٹ تو پرانی روایات اور طریقوں کے مطابق جاری ہے، اس لیے تماشائیوں کی عدم دلچسپی کی سمجھ بھی آتی ہے لیکن پہلا ٹیسٹ تو جدید تقاضں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی تبدیلیوں کے ساتھ کھیلا گیا تھا، اس میں بھی خالی نشستیں کیوں تھیں؟ حالانکہ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کروانے کے پیجھے اہم دلیل یہی تھی کہ عوام کو ٹیسٹ کرکٹ بھی دلچسپ انداز سے دکھائی جائے۔ مصروف زندگی میں روزمرہ مصروفیات چھوڑ کر پانچ دن کھیل کے نام کرنے میں انہیں جو مشکلات درپیش ہیں، انہیں ختم کیا جائے تاکہ وہ دن بھر کام کاج کے بعد شام کو میدانوں کا رخ کر سکیں، لیکن خالی کرسیاں ان تمام دلائل کا منہ چڑاتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یونس خان ٹیسٹ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر

پاکستان کرکٹ میں اس المیے کے کئی محرکات ہیں۔ ایک تو پاکستان اپنے ملک کے بجائے تیسرے مقام پر میچز کھیلنے پر مجبور ہے، وہ بھی ایسے مقام پر جہاں عام تماشائیوں کے لیے میدان تک رسائی آسان نہیں ہے۔ امارات میں مقیم بیشتر پاکستانی محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے لیے دیار غیر میں دن بھر محنت مشقت کے بعد اتنا وقت نکالنا آسان نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ کہیں کہ محدود اوورز کے مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کی عبرت ناک شکست کے بعد یکطرفہ مقابلے نے تماشائیوں کی دلچسپی ختم کردی ہے لیکن ہم ماضی میں انگلستان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے مضبوط حریفوں کے خلاف بھی ایسے ہی خالی میدان دیکھ چکے ہیں۔

بہرحال، وجہ جو بھی ہو، ایسی یادگار ٹیسٹ سیریز میں عوام کی عدم دلچسپی جہاں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، وہیں پاکستان میں کرکٹ کی زبوں حالی کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ پاکستان نے انہی میدانوں پر عالمی نمبر ایک انگلستان اور آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپس کیے اور کپتان مصباح الحق سمیت کئی کھلاڑیوں نے یادگار انفرادی کارکردگیاں دکھائیں، لیکن معاملہ 'جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا' والا ہی رہا۔

Facebook Comments