کلارک اور ہیڈن بھی نصیحتیں کرنے لگے

سابق آسٹریلوی کھلاڑیوں مائیکل کلارک اور بریڈ ہیڈن نے اپنے ہم وطن کھلاڑیوں کو آئندہ ٹیسٹ سیریز میں مخالف کھلاڑیوں پر جملے کسنے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا تو مجھے وطن عزیز کے فوجی اور بیوروکریٹ یاد آ گئے کہ جن کا ضمیر صرف ریٹائرمنٹ کے بعد جاگتا ہے۔ دونوں سابق کھلاڑیوں کا سارا کیریئر جس چلن میں گزرا، موجودہ دستے کو ایسے رویے ترک کرنے کی نصیحتیں کرنا عجیب لگتا ہے مگرسوال یہ ہے اس سوچ میں تبدیلی کی وجہ کیا بنی؟

پانچ مقابلوں کی حالیہ ایک روزہ سیریز میں آسٹریلیا کی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں "کلین سویپ" شکست نے سب کو ہلا کر رکھ دیا، مگر اس سیریز کی خاص بات 'کینگروز' کا دوران مقابلہ مخالف کھلاڑیوں پر متعدد بار زبانی چڑھائی اور سخت جملوں کا تبادلہ کرنا تھا۔ جس پر آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ کو بھی کہنا پڑا کہ میدان میں زیادہ خاموش ٹیم بہتر توانائی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے جیت کے لئے رویوں پر قابو پانا ضروری ہے۔

سابق کپتان مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ موجودہ کپتان اسٹیون اسمتھ مجھ سے بہت مختلف بلکہ الٹ ہیں، مجھے جارحانہ انداز بہت پسند ہے مگر اس کی حدود بھی جانتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میرے دور میں کبھی خطرناک لائن عبور نہیں ہوئی۔ کیونکہ میرا یقین بولنے سے سے زیادہ کر دکھانے پر تھا۔ سابق کپتان نے جارحانہ انداز اپنانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا سبب سینیئر کھلاڑی ہیں۔ ماضی کے تقریباً تمام آسٹریلین کھلاڑیوں کو ہم نے دوران میچ بڑبڑاتے دیکھا ہے، خاص کر جب میں قومی دستے میں شامل ہوا تو میرے سینیرز میں سٹیو واہ، میتھیو ہیڈن اور شین وارن تھے جو زبان درازی کو حریف کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب میرا خیال ہے رکی پونٹنگ تقلید کے لئے زیادہ بہتر مثال تھے جو پرسکون لہجے کے ساتھ اپنی جارحیت بلّے سے دکھایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  کوہلی کا کمال، پہلی ڈبل سنچری ریکارڈز کی نظر سے

ریٹائرمنٹ کے بعد جب بریڈ ہیڈن کا ضمیر جاگا تو موصوف بھی مخالف دستے کو طیش دلانے والے رویّے پر شاکی نظر آئے اور کہا کہ زبانی بدسلوکی کے بغیر بھی بہت سے طریقوں سے مخالف کو بے سکون کیا جا سکتا ہے اس کے لئے دوسرے پر چڑھ دوڑنا ضروری نہیں۔ مثلاً آپ جارحانہ فیلڈنگ، فیلڈنگ میں تبدیلیوں اور اپنی بدن بولی (باڈی لینگویج) سے ایسا ماحول پیدا کر سکتے ہیں کہ بلے باز خود کو تنہا اور بےبس محسوس کرنے لگے۔ کیونکہ میں جس دستے کا حصہ رہا ہوں، وہاں جارحانہ انداز محض مخالف کھلاڑی کو پریشان کرنے کے لئے ہوتا تھا نہ کہ ان کی توہین کے لئے، اور ہم نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔ اس لئے مخالف پر چڑھائی کرنے سے بہتر یہی ہے کہ مخالف کھلاڑیوں سے دور رہ کر صرف اپنے کھیل پر توجہ دی جائے اور ماحول میں ایسی تبدیلی پیدا کیا جائے کہ میچ کا دباؤ مخالفین کی طرف منتقل ہو جائے۔ ضرورت سے زیادہ جارحانہ انداز کبھی کبھی منفی اثر بھی ڈال دیتا ہے کہ جوابی حملے کے بعد آپ اسی صورتحال میں پھنس جاتے ہیں اور کھیل پر توجہ مرکوز نہیں رہتی، اس لئے ایسے اقدام میں توازن بہت ضروری ہے۔ جارحانہ پن میں توازن کی بہترین مثال اینڈریو سائمنڈ ہے وہ زبان سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا تھا، مگر اس کی موجودگی ہی مخالف دستے کو دباؤ میں لے آتی تھی۔ بلےبازی، گیند بازی اور فیلڈنگ ہر شعبے میں متحرک اور دبنگ انداز۔ اس میں وہ صلاحیت تھی جو صرف اپنے انداز سے ٹیم میں جوش بھردیا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  چیمپئنز ٹرافی کے کپتان

دونوں سابق کھلاڑیوں کی گفتگو ان موجودہ نوجواں کھلاڑیوں کے لئے بہت اہم ہے جو محض جارحانہ انداز اور زبان کی ترشی کو ہی مخالف کو جھکانے کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں مگر جہاں تک ان دونوں سابقین کی ریٹائرمنٹ کے بعد نصیحتیوں کا معاملہ ہے تو ان کے لئے پنجابی محاورہ فٹ بیٹھتا ہے "ویلے دی نماز تے کویلے دی ٹکراں"۔

Michael-Clarke-Brad-Haddin

Facebook Comments