اصل امتحان دورۂ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا یاترا ہوگا، وسیم اکرم

پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم باؤلر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ مصباح الیون کی صلاحیتوں کا اصل امتحان تو دورہ نیوزی لینڈ اور اس کے بعد آسٹریلیا یاترا ہی ثابت ہوگا۔ کیونکہ متحدہ عرب امارات کی دھیمی وکٹوں پر کھیلنا اور کیویز اور کینگروز کی سرزمین پر تیز اور باؤنسی وکٹوں میں کھیلنے میں بہت فرق ہوگا۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ امارات کی وکٹیں سست ہونے کی وجہ بلے بازوں اور اسپنرز کے لئے بہت سازگار ہوتی ہیں اس لئے بلے بازوں کو بھی شاٹس کھیلنے اور خود کو بچانے کے لئے کافی وقت مل جاتا ہے جبکہ تیز پچوں پر محض گیند روکنے سے کام نہیں چلے گا، ذرا سی غلطی ہوئی تو سمجھیں وکٹ ہاتھ سے گئی۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان میں بڑا فرق فیلڈنگ کا بھی ہے چونکہ بلیک کیپس کی فیلڈنگ کا معیار ہم سے بہت بہتر ہے اس لئے اس شعبے پر بھی خاص طور پر محنت کرنا ہو گی۔ ورنہ وہاں کیچز چھوڑنا بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت تیز گیند باز اور مڈل آرڈر بیٹنگ ہے، اگر یہ دونوں اپنا کردار ٹھیک سے ادا کر گئے تو جیتنا اتنا مشکل بھی نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت نیوزی لینڈ کے دورے پر موجود ہے جہاں دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 17 نومبر سے کرائسٹ چرچ میں ہوگا۔ دونوں کا آخری ٹکراؤ 2014ء میں متحدہ عرب امارات میں ہوا تھا اور تین ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔ اگر نیوزی لینڈ کی میزبانی میں کھیلے گئے آخری سیریز کی بات کریں تو وہ جنوری 2011ء میں دو میچوں پر مشتمل تھی جسے مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے ایک-صفر سے اپنے نام کر لیا تھا۔ اگر مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیں تو پلڑا پاکستان کے حق میں جھکا ہوا نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آفریدی بمقابلہ میانداد – سابق کپتان وسیم اکرم بھی خاموش نہ رہ سکے
Asad-Shafiq-Misbah-ul-Haq

Facebook Comments