کیا یونس خان کا ’’وقت‘‘ آ گیا ہے؟

یونس خان کو پاکستان کی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے جو گزشتہ 16برسوں میں مختلف اُتار چڑھاؤ دیکھتے دیکھتے ہوئے پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن چکے ہیں جبکہ دس ہزار رنز کا جادوئی ہندسہ بھی اُن کی دسترس میں ہے جس کیلئے یونس کو مزید چند میچز میں حصہ لینا ہوگا مگر ٹیسٹ کرکٹ میں جاندار کارکردگی دکھانے والے یونس خان اس وقت اپنے کیرئیر کی سب سے خراب فارم سے گزر رہے ہیں جنہوں نے انگلینڈ میں یادگار ڈبل سنچری اسکور کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں ملی جلی کارکردگی دکھاتے ہوئے آخری چار اننگز میں ایک صفر سمیت صرف پانچ رنز ہی بنائے ہیں۔یونس خان کی اس کارکردگی کے بعد یہ سوال اُٹھنا شروع ہوگیا ہے کہ کیا ماسٹر بیٹسمین اپنے کیرئیر کے آخری حصے پر پہنچ گیا ہے یا پھر ایک اور اچھی اننگز یونس خان کے کیرئیر کو کچھ طوالت بخش دے گی۔

دورہ انگلینڈ میں یونس خان پر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب یونس کو آٹھ اننگز نصف سنچری سے محروم رہنا پڑا تھا لیکن اوول میں نہ صرف یونس خان نے یادگار ڈبل سنچری اسکور کی بلکہ پاکستان کی فتح میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہوئے سیریز برابر بھی کروادی۔ بیماری کے سبب ویسٹ انڈیز کیخلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر ہونے والے یونس خان نے ابوظہبی میں بھی سنچری اسکور کی اور پھر شارجہ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 51رنز بنا کر اپنی عمدہ فارم کا ثبوت پیش کیا لیکن اس کے بعد ناجانے یونس خان کے بلے کو کس کی نظر لگ گئی جو چار اننگز میں بیٹنگ کرنے کے باوجود مجموعی طور پر صرف پانچ رنز ہی بنا سکا۔ حالانکہ ماضی میں یونس خان نے نیوزی لینڈ میں بہت عمدہ کارکردگی دکھائی تھی جس میں مارچ 2001ء میں آکلینڈ میں کھیلی گئی 149*رنز کی فتح گر آج بھی یونس کے مداحوں کو یاد ہے جس نے یونس خان کے تابناک مستقبل کی جانب اشارہ کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  دورۂ سری لنکا، حفیظ ٹیسٹ سے باہر عمر اکمل شامل، یونس کی ایک روزہ دستے میں واپسی

ویسٹ انڈیز کیخلاف شارجہ اور پھر نیوزی لینڈ میں ملنے والی ناکامی سے قبل پورے کیرئیر میں صرف ایک مرتبہ 2002ء میں ہی ایسا ہوا ہے جب یونس خان مسلسل چار اننگز میں ڈبل فگرز میں داخل ہونے میں ناکام رہے جب آسٹریلیا کیخلاف شارجہ میں کھیلی گئے ددو ٹیسٹ میچز میں یونس نے مجموعی طور پر ان چار اننگز میں 14رنز بنائے۔ اس سیریز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن نے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ شارجہ میں شین وارن، مک گرا اور بریٹ لی کی طوفانی بالنگ کے سامنے پاکستانی ٹیم دونوں اننگز میں پچاس کی دہائی میں آؤٹ ہوئی اور اس میں نوجوان یونس خان کی جانب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنا اچنبھے کی بات نہیں تھی لیکن اب سو سے زائد ٹیسٹ میچز کھیلنے کے بعد یونس خان کی جانب سے ایسی کارکردگی کو قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ سینئر بیٹسمین ہونے کی حیثیت سے یونس خان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے لیکن اس کے باوجود یونس خان اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے ۔یونس کے بلے کو لگ جانے والا زنگ یہی ثابت کررہا ہے کہ شاید اسٹار بیٹسمین کا کیرئیر اب اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یونس خان فائٹر کھلاڑی ہے جس نے متعدد مرتبہ مشکلات سے نکلتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں بھی یونس خان کی اہلیت پر سوالیہ نشان اُٹھنا شروع ہوگئے تھے جو گھومتی ہوئی گیندوں کیخلاف مشکلات کا شکار ہورہے تھے مگر یونس نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب اوول میں شاندار ڈبل سنچری اسکور کرکے دیا جہاں وکٹ بھی یونس کیلئے سازگار تھی اور قسمت بھی پوری طرح یونس خان پر مہربان تھی۔یہ عین ممکن ہے کہ یونس خان ہملٹن ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں تین ہندسوں کی اننگز کھیل کر خراب فارم سے چھٹکارا حاصل کرلیں جو پاکستان کیلئے کارآمد ہوگی مگر ہملٹن کی وکٹ اوول جیسی نہیں ہے جہاں یونس خان کو اسٹروکس کھیلنے میں آسانی ہو کیونکہ نیوزی لینڈ میں اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ یونس خان کو سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں پر مشکل ہورہی ہے اور باہر جاتی ہوئی گیندوں کا پیچھا کرنے کے جرم میں یونس کو اپنی وکٹ گنوانا پڑ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دو زندگیاں ملنے کے بعد کک نے 29 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا

نیوزی لینڈ کیخلاف آخری اننگز کو اگر یونس خان یادگار نہیں بھی بناتے تو اس کے باوجود انہیں آسٹریلیا جانے والی پاکستانی ٹیم میں جگہ مل جائے گی کیونکہ محض دو ٹیسٹ میچز کی ناکامی یونس خان کے کیرئیر پر خط تنسیخ نہیں کھینچ سکتی جو دس ہزار رنز کے سنگ میل سے محض 332رنز دور ہے۔ یونس خان کو دس ہزار رنز تک رسائی کا موقع ملنا چاہیے اور آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹوں پر یونس نے چند ایک اچھی باریاں کھیل دیں تو ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز بھی یونس کے ریکارڈز کا حصہ بن جائیں گے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے جو بیٹسمین اپنے کیرئیر کی کی دو سویں اننگز میں کسی نووارد کی طرح کھیل کر اپنی وکٹ گنوا دے تو پھر اُسے اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرلینا چاہیے کیونکہ یہ کھیل بہت بے رحم ہے جس میں برسوں تک کسی بھی ٹیم کی ’’ریڑھ کی ہڈی ‘‘کو لمحوں میں ٹوٹتے اور آنسوؤں کیساتھ رخصت ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے!

Younis-Khan

Facebook Comments