ناقص منصوبہ بندی سے ہملٹن میں ہار!

بھرپور مقابلہ کرنے کے بعد ملنے والی شکست شاید اتنی تکلیف دہ نہیں ہوتی جتنی اذیت اس ہار پر ہوتی جس میں ایک ٹیم لڑے بغیر یا عقل سے عاری کرکٹ کھیلتے ہوئے ایسے میچ میں شکست کو گلے لگا لے جہاں فتح یا کم از کم ڈرا کا حصول ممکن ہو۔ ہملٹن ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے ایسا ہی کچھ کیا ہے، جہاں 369 رنز کے ہدف کے تعاقب میں دو سیشنز تک سست روی سے بیٹنگ کرنے والی ٹیم آخری سیشن میں دس وکٹیں سو سے بھی کم رنز کے اندر گنوا کر شکست کی کھائی میں گر جاتی ہے۔ اگر ایسی بھونڈی ’’منصوبہ بندی‘‘ کسی دیسی کوچ نے کی ہے تو بات سمجھ میں آتی تھی مگر ہائی پروفائل ’’گورے‘‘ کوچ سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے جو ڈریسنگ روم میں ’’نقشے‘‘ بنا کر کھلاڑیوں کو ان کی خامیاں بتانے کی کوشش تو کرتا ہے مگر اسے یہ نہیں پتہ کہ میچ کی صورتحال کے مطابق کیسی منصوبہ بندی کی جائے اور کھلاڑیوں کو یہ بات کیسے سمجھائی جائے کہ انہوں نے مختلف قسم کی صورتحال میں خود کو کیسے ایڈجسٹ کرنا ہے۔ کیا یہ بات ہضم کرنا آسان ہے کہ 60 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 131رنز بنانے والی ٹیم اگلے 32 اوورز میں محض 99 رنز کے اضافے سے دس وکٹیں گنوا دے؟

آخری قصوروار تو بیٹنگ کو قرار دیا جا رہا ہے لیکن پہلے بالنگ کا پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہے کیونکہ سازگار وکٹ پر چار پاکستانی پیسرز مل کر بھی نیوزی لینڈ کو پہلی اننگز میں 271 رنز پر ہی آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ جبکہ دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں نے بہت آسانی سے پانچ وکٹوں پر 313 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرکے پاکستان کو 369 رنز کا ہدف دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی بالرز نے فی وکٹ تقریباً 39رنز دیے ہیں جس میں رن ریٹ ساڑھے تین رنز رہا۔ اگر اسٹرائیک ریٹ کی بات کریں تو یہ 67.6 بنتا ہے یعنی چار فاسٹ بالرز پر مشتمل پیس اٹیک کو ایک وکٹ لینے کیلئے اوسطاً گیارہ اوورز کروانا پڑے ہیں۔ یہ اعدادوشمار پاکستانی بالرز کو بالکل اوسط درجے کے گیند باز بناتے، جن پر ٹیم مینجمنٹ اور شائقین بہت ناز کرتے ہیں اور اگر غلطی سے فیلڈرز ان کی گیندوں پر کیچ ڈراپ کردیں تو آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا ہے حالانکہ پاکستانی فیلڈرز ماضی میں بھی ایسے ہی تھے اور "ٹو ڈبلیوز" کی گیندوں پر بھی وکٹ کیپراور سلپ فیلڈروں سے کئی مرتبہ کیچز ڈراپ ہوتے تھے مگر وسیم اور وقار جیسے بالرز سے ان ڈراپ کیچز کی شکایت دیکھنے کو نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیں:  دیار غیر میں لٹ گئے!!

پھر پاکستان کو جیت کیلئے 369رنز کا ہدف ملا جو ہرگز آسان نہیں تھا مگر اس ہدف کے تعاقب میں واضح منصوبہ بندی ضروری تھی جو کہ کپتان اور کوچ سے نہ ہوسکی۔ پاکستانی ٹیم چوتھی اننگز میں دفاعی ذہن کے ساتھ گئی حالانکہ اگر اس اننگز میں جارحانہ نہیں بلکہ صرف مثبت سوچ کے ساتھ بیٹنگ کی جاتی تو حالات مختلف ہوسکتے تھے۔ میچ جیتنے کیلئے پاکستان کے پاس لگ بھگ سو اوورز تھے جن میں تین رنز فی اوور کے حساب سے بیٹنگ کی جاتی تو میچ دلچسپ ہوسکتا تھا مگر پاکستانی اوپنرز نے پہلے سیشن میں نہایت سست روی سے بیٹنگ کرتے ہوئے 36اوورز میں محض 75رنز بنائے جس کا مطلب ہے کہ دونوں اوپنرز نے فی اوور صرف دو رن اسکور کیے۔ اگلے سیشن میں احتیاط کا یہ عالم تھا کہ 28 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 82 رنز بنائے جس میں رنز فی اوور تین سے ذرا کم تھا۔ اب مضحکہ خیز بات ملاحظہ ہو کہ آخری سیشن میں جب 200 سے زائد رنز درکار تھے اور رن ریٹ پانچ بلکہ چھ سے بھی تجاوز کرچکا تھا، تب بیٹسمینوں کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ تیز بیٹنگ کرتے ہوئے میچ جیتنے کی کوشش کریں۔

اسی ’’کوشش‘‘ میں سمیع اسلم کو 91 رنز پر اپنی سنچری کی قربانی دینا پڑتی ہے کیونکہ اوپر سے ’’حکم‘‘ تھا جبکہ نمبر چار پر کھیلنے والے سرفراز احمد کو بھی جلدی میدان چھوڑنا پڑا۔ کوئی وجہ نہیں تھی کہ ہدف کے تعاقب میں غیر ضروری طور پر وکٹیں گنوائی جاتیں کیونکہ جب رنز بنانے والے بیٹسمین سمیع اسلم، اظہر علی اور بابر اعظم پویلین لوٹ چکے تھے تو پھر ضرورت اس امر کی تھی کہ یونس خان اور اسد شفیق جیسے بیٹسمین وکٹ پر قیام کرتے ہوئے میچ کو ڈرا کرتے۔ یوں پاکستانی ٹیم اس سیریز میں کلین سویپ کی خفت سے بچ جاتی۔ پھر یہ تجربہ کار بیٹسمین پچھلی تینوں اننگز میں جدوجہد کا شکار تھے اور سیریز کی آخری اننگز بھی ہرگز مختلف نہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  عمران خان کی بات مان لیں!!

صرف چند ہفتے قبل نمبر ون کی پوزیشن پر فائز پاکستان اب مسلسل تین ٹیسٹ میچز میں شکست کھانے کے بعد چوتھی پوزیشن پر پہنچ چکا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آسٹریلیا میں گرین شرٹس کی ’’کارکردگی‘‘ انہیں مزید نیچے لے جائے۔ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل تین ٹیسٹ میچز میں شکست لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جس ’’عمارت‘‘ کی تعمیر میں پانچ سال کے لگ بھگ عرصہ لگا اسے نیا کوچ، سلیکشن کمیٹی اور نام نہاد ’’بڑے نام‘‘ چند ہفتوں میں ڈھادینے کے درپے ہوگئے ہیں۔ پی سی بی نے مصباح سے 2018ء تک کھیلنے کی درخواست کی ہے جو مسائل کا حل نہیں بلکہ کوچز، سلیکٹرز اور کھلاڑیوں سے بازپرس کرنے کی ضرورت ہے جو ہر مرتبہ بری الذمہ ہوجاتے ہیں!

Facebook Comments