"شرجیل! شکر کرو جیل جانے سے بچ گئے"

پاکستان کے سابق تیز گیند باز شعیب اختر گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے گن گاتے نظر آئے۔ ایک تو پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں انعقاد کو سراہتے ہوئے اسے پی سی بی کا دلیرانہ فیصلہ قرار دیا۔ ساتھ ہی غیر ملکی کھلاڑیوں کو لاہور آنے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت مکمل فول پروف سکیورٹی فراہم کرے گی، اس لیے تمام خدشات کو پس پشت ڈال کر لاہوریوں کے ساتھ کرکٹ کا لطف اٹھائیں۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے 'راولپنڈی ایکسپریس' نے فکسنگ تنازع پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پی سی بی کو معاملے پر فوری ایکشن لینے اور موثر قدم اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس معاملے کو بورڈکی انضباطی کمیٹی میں حل کیا جائے کیونکہ اگر معاملہ عدالت میں گیا تو بہت بدنامی ہوگی۔

شعیب اختر نے تنازع کے دونوں مرکزی کرداروں شرجیل خان اور خالد لطیف کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ "آپ دونوں کو تو پی سی بی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جس نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان بھیج دیا، ورنہ دبئی میں جیل کی ہوا کھا رہے ہوتے۔"

سابق تیز گیندباز نے بدعنوانی کی وجہ کھلاڑیوں میں تربیت کی کمی کو قرار دیا۔ اتنے سال کرکٹ کھیلنے کے بعد تو معلوم ہونا چاہیے کہ کیا چیز غلط ہے؟ اور کون سا بندہ مشکوک ہے؟ مگر لالچ اور ہوس اندھا کر دیتی ہے۔ دونوں کھلاڑی آئی سی سی اور پی سی بی کے قوانین کے متعلق جانتے ہیں کہ مشکوک افراد کے رابطے پر فوراً آگاہ کرنا چاہیے۔ شعیب نے حکام سے اپیل کی کہ اب کرپشن کو ناقابل معافی جرم بنا دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شرجیل خان اور خالد لطیف کو چارج شیٹ جاری کردی ہے اور اب دونوں کھلاڑی جوابات جمع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے سامنے تو دونوں اب تک جرم سے انکاری ہیں۔

khalid-latif-sharjeel-khan

Facebook Comments